پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں یو پی آئی ٹیکس کی تجاویز پیش نہیں کی گئیں

   

نئی دہلی 17 ستمبر ( ایجنسیز ) کانگریس ارکان پارلیمنٹ گورو گوگوئی اور منیش تیواری نے ان دعووں کو مسترد کردیا کہ انہوں نے یو پی آئی ادائیگیوں پر فیس عائد کرنے کے فیصلے کی پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی اجلاس میں مخالفت نہیں کی تھی ۔ مسٹر گورو گوگوئی نے واضح کیا کہ پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی برائے فینانس کے اجلاس میں یو پی آئی ٹیکس کی تجاویز پر تبادلہ خیال ہی نہیں کیا گیا تھا ۔ مسٹر تیواری نے کہا کہ حکومت پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹیوں کے اجلاس کی تفصیلات کو سیاسی الزام تراشی کیلئے استعمال کر رہی ہے ۔ حکومت کے ایک سینئر عہدیدار کی جانب سے مبینہ طور پر یہ دعوی کیا گیا تھا کہ پارلیمانی پیانل نے یو پی آئی ادائیگیوں پر ٹیکس عائد کرنے کی حمایت کی تھی ۔ مسٹر گورو گوگوئی نے اپنے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب فینانس کمیٹی کے ارکان کا اجلاس منعقد ہوا تھا اس وقت محکمہ فینانس کی جانب سے یو پی آئی ٹیکس عائد کرنے کی کوئی واضح تجویز پیش نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی اس پر کسی طرح کا غور کیا گیا ہے ۔ مسرٹ گوگوئی نے کہا کہ یو پی آئی ادائیگیوں پر ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے پر اب سوال کئے جا رہے ہیں اور حکومت کے نمائندوں کے پاس اس مسئلہ پر دینے کیلئے کوئی واضح جواب نہیں ہے ۔ سرکاری نمائندے نے دعوی کیا تھا کہ کانگریس کے پانچ ارکان پارلیمنٹ پی چدمبرم ‘ منیش تیواری ‘ گورو گوگوئی ‘ کشوری لال اور کے گوپی ناتھ 12 اگسٹ کے پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں موجود تھے جب اس رپورٹ کو منظوری دی گئی تھی اور کسی بھی رکن نے اس تجویز پر اعتراض نہیں جتایا اور نہ ہی اجلاس کی روئیداد میں اس کا اندراج کیا گیا ہے ۔ گورو گوگوئی کے دعووں کی توثیق کرتے ہوئے مسٹر منیش تیواری نے کہا کہ یو پی آئی ادائیگیوں پر 15 اکٹوبر سے ٹیکس عائد کرنے کی کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی تھی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی برائے فینانس میں کوئی تجویز ہی پیش نہیں کی گئی اور نہ ہی عائد کئے جانے والے ٹیکس یا استثنی کا کوئی مسئلہ موضوع بحث آیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں یو پی آئی ادائیگیوں پر اس طرح کا ٹیکس عائد کرنے کی ضرورت پر ہی سوال اٹھائے گئے تھے ۔ واضح رہے کہ کل قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے بھی حکومت کی جانب سے 2000 روپئے سے زائد کی یو پی آئی ادائیگیوں پر ٹیکس عائد کرنے کی شدید مذمت کی تھی ۔ اس کے بعد حکومت نے پانچ ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے مخالفت نہ کئے جانے کا دعوی کیا ہے ۔ حکومت کا کہنا تھا کہ جب کانگریس کے خود ارکان پارلیمنٹ نے اس مسئلہ پر کوئی مخالفت نہیں کی تو راہول گاندھی کیوں اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ راہول گاندھی نے حکومت کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے آگے جھک جانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ یو پی آئی ادائیگیوں کے ذریعہ امریکہ کو بھاری رقومات فراہم کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے یو پی آئی کے ذریعہ 2000 روپئے سے زائد کی ادائیگیوں پر 0.4 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر 15 اکٹوبر سے عمل آوری ہوگی ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ادائیگی بھی تاجر کو کرنی ہوگی گاہک کو نہیں ۔تاہم مختلف گوشوں کی جانب سے واضح کیا جا رہا ہے کہ تاجر بھی یہ بوجھ گاہکوں پر ہی منتقل کردیں گے اور عوام کو بالواسطہ طور پر بوجھ برداشت کرنا ہی پڑے گا ۔