ہر شعبہ میں تلنگانہ نظرانداز، سیلاب متاثرین کیلئے مرکز کی کوئی امداد نہیں: ڈاکٹر کیشو راؤ
حیدرآباد۔/20 جولائی، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف دونوں ایوانوں اور اس کے باہر احتجاج جاری رہے گا تاکہ عوام کو مرکز کی ناکامیوں سے واقف کرایا جاسکے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر ٹی آر ایس ارکان جی ایس ٹی کے نفاذ کے سبب اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، پٹرول، ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے احتجاج درج کرایا۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی کے التواء کے بعد ٹی آر ایس ارکان نے دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا کہ عوام کو راحت پہنچانے کے اقدامات تک احتجاج جاری رہے گا۔ ڈاکٹر کے کیشوراؤ اور ناما ناگیشور راؤ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں احتجاج کے سلسلہ میں حکمت عملی تیار کی گئی ہے جس کے تحت مرکز کی تلنگانہ سے ناانصافیوں کو احتجاجی ایجنڈہ میں شامل کیا گیا ہے۔ قائدین نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل پر مباحث کیلئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بارش اور سیلاب کے نتیجہ میں متاثرین کو مرکز کی جانب سے تاحال کوئی امداد نہیں دی گئی۔ ڈاکٹر کیشوراؤ نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے نہ صرف متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا بلکہ امدادی پیاکیج کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز ہر شعبہ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کا رویہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ احتجاج میں ٹی آر ایس ارکان کے پربھاکر ریڈی، سنتوش کمار، کے آر سریش ریڈی، ایم کویتا، بی وینکٹیش، پی راملو، پی دیاکر راؤ، ایم سرینواس ریڈی، بی دامودر راؤ، رنجیت ریڈی، بی پی پاٹل، ڈی لنگیا یادو، پارتھا سارتھی ریڈی، وی روی چندرا اور دوسروں نے حصہ لیا۔ر