خوش تجھ کو دیکھنے کیلئے ہی تو ہر قدم
کرنا نہ تھا جو کام وہ کرنا پڑا مجھے
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ مانسون سیشن کا 20 جون سے آغاز ہوگا ۔ مرکزی وزیر پارلیمانی امور مسٹر کرن رجیجو نے یہ اعلان کیا ۔ ملک کے موجودہ حالات میں پارلیمنٹ مانسون اجلاس کی اہمیت بہت زیادہ ہوگئی ہے ۔ کئی ایسے امور ہیں جن پر حکومت کو گھیرنے کیلئے اپوزیشن کو اپنی تیاریاں کرلینے کی ضرورت ہے ۔ اپوزیشن کو اپنے موقف کو واضح انداز میں پیش کرنے کیلئے ایک جامع اور مشترکہ حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے ۔ ملک کی اپوزیشن جماعتوںکو پوری شدت کے ساتھ اپنے وجود کا احساس دلانا چاہئے اور چونکہ حکومت اپوزیشن کے وجود کو نہ پارلیمنٹ میں تسلیم کرنے تیار ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ کے باہر کوئی اہمیت دی جار ہی ہے تو ایسے میں اپوزیشن جماعتوںکو اپنے وجود کا احساس دلانے کیلئے اور اپنی بات اور طاقت منوانے کیلئے متحدہ اور مشترکہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔ حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کا بل مسترد کروانے کیلئے جس طرح سے اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں ایک آواز ہو کر حکومت کو ناکام بنایا تھا اسی طرح کئی ایسے مسائل ہیں جن پر حکومت کو گھیرا جاسکتا ہے ۔ اس کی ناکامیوں کو پیش کیا جاسکتا ہے اور اس سے سوال کیا جاسکتا ہے ۔ ان امور کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے اور ان پر حکومت کیلئے سوالات تیار رکھے جانے چاہئیں۔ ایک ایسی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ حکومت کو حاشیہ پر کیا جاسکے اور اسے اپوزیشن کے سوالات کے جواب دینے کیلئے مجبور کیا جاسکے ۔ حکومت کا جہاں تک سوال ہے تو وہ کئی معاملات میں الفاظ اور اعدادو شمار کے الٹ پھیر کے ذریعہ ہی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کرتی ہے اور اصل مسئلہ کو منتشر کرنے میں یقین رکھتی ہے ۔ اپوزیشن کو اس حکمت عملی سے نمٹنے کیلئے تیار رہنا چاہئے سوالات اور جوابدہی سے بچنے کی حکومت کی کسی بھی کوشش کو کامیاب ہونے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اپوزیشن جماعتیں ایک مشترکہ اور جامع منصوبہ کے تحت پارلیمنٹ میں پہونچیں۔
پاکستان کے خلاف آپریشن سندور کے دوران ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے مسئلہ پر حکومت سے جواب طلب کیا جاسکتا ہے ۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے خلاف پہلے ہی مراعات شکنی کی نوٹس دی گئی ہے اور اس پر ایوان میں حکومت سے جواب طلب کیا جاسکتا ہے ۔ اس کو موثر ڈھنگ سے پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ وزیر دفاع نے آپریشن سندور کے دوران ہندوستان کے کسی بھی فوجی کی موت نہ ہونے کا خود پارلیمنٹ میں بیان دیا تھا ۔ چند دن قبل حکومت کی جانب سے چھ فوجیوں کے نام جاری کئے گئے جن کی آپریشن سندور کے دوران موت کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس طرح وزیر دفاع پر الزام ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں غلط بیانی سے کام لیا ہے ۔ اس مسئلہ پر اپوزیشن جماعتیں حکومت سے جواب طلب کرسکتی ہیں اور وزیر دفاع کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح امتحانی پرچہ جات کے افشاء کے مسئلہ پر بھی حکومت کو گھیرا جاسکتا ہے ۔ دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے ۔ یہ احتجاج دو ہفتوں سے زائد کا ہوچکا ہے تاہم حکومت اس کا نوٹ تک لینے کو تیار نہیں ہے ۔ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کا مسئلہ حکومت کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اس پر بھی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں ہی جگہ موثر مہم کی ضرورت ہے ۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفی پر مجبور کرنا اپوزیشن جماعتوں کی ایک مشترکہ کوشش ہونی چاہئے ۔
پارلیمنٹ مانسون سیشن سے قبل یہ قیاس آرائیاں بھی ہو رہی ہیں کہ مرکزی کابینہ میں رد و بدل ہوسکتا ہے ۔ کچھ وزراء کو تبدیل کیا جاسکتا ہے اور کچھ کو کابینہ سے علیحدہ کرنے کا بھی امکان ہے ۔ اس صورت میں جن وزراء سے جواب طلبی کی ضرورت ہے اگر ان کے قلمدان تبدیل کئے جائیں تب بھی اپوزیشن کو خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہئے ۔ اپوزیشن کو ملک کے عوام میں اہمیت کے حامل مسائل پر شعور بیدار کرتے ہوئے ان تک رسائی حصال کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان کے مسائل کو موثر ڈھنگ سے ایوان میں پیش کرنا ہی اپوزیشن کی ذمہ داری ہے اور اسی کے ذریعہ حکومت کو گھیرا بھی جاسکتا ہے ۔ اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ مانسون سیشن کو اپنے لئے ایک موقع کے طور پر استعمال کریں۔
تلنگانہ کے قرض کا مسئلہ
تلنگانہ کی سیاست میں اس وقت ریاست کے محصلہ قرض کا مسئلہ موضوع بنا ہوا ہے ۔ جہاں کانگریس حکومت کی جانب سے سابقہ بی آر ایس حکومت پر بے تحاشہ قرض حاصل کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے وہیں بی آر ایس کا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ قرض کانگریس حکومت نے حاصل کرلیا ہے اور ریاست کو قرض کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے ۔ ایک دوسرے پر الزامات اور مباحث کے چیلنج کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ جہاں تک قرض کا سوال ہے تو چاہے بی آر ایس کی حکومت رہے یا پھر کانگریس کی حکومت ‘ سبھی نے قرض حاصل کیا ہے ۔ اس کے باوجود ریاست میں کئی پراجیکٹس ایسے ہیں جن کا کام ٹھپ ہوا ہے اور کئی اسکیمات کیلئے فنڈز دستیاب نہیں ہیں۔ اصل سوال یہی ہے کہ جس کسی حکومت نے قرض حاصل کیا ہے اس نے یہ رقومات خرچ کہاں کی ہیں ؟ ۔ عوامی فلاح و بہبود کے نام پر حاصل کئے گئے قرض کو کہاں خرچ کیا گیا ہے ۔ بی آر ایس ہو یا کانگریس ہو دونوں ہی کو چاہئے کہ وہ اپنے اپنے قرض کی تفصیلات اور اس کے خرچ سے ریاست کے عوام کو واقف کروائے کیونکہ قرض کی ادائیگی تو عوامی ٹیکس کے ذریعہ ہی ہونی ہے ۔