غزہ ۔ 19 اکتوبر (ایجنسیز) اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ فنڈز کی کمی کے باعث غزہ میں اس کے امدادی آپریشن میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کرنا پڑ رہی ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً پانچ لاکھ افراد ماہانہ غذائی امداد سے محروم ہو جائیں گے۔ یہ صورت حال ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب غزہ کی تقریباً دو تہائی آبادی کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے کنٹری ڈائرکٹر شان ہیوز نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس ماہ سے ہم امداد حاصل کرنے والے افراد کی تعداد میں پانچ لاکھ کی کمی کر رہے ہیں۔ امداد میں اس کٹوتی کے بعد غزہ میں ڈبلیو ایف پی سے غذائی اشیاء یا نقد امداد حاصل کرنے والے فلسطینیوں کی تعداد کم ہو کر 11 لاکھ رہ جائے گی۔ یہ تعداد جنگ سے تباہ حال غزہ کی مجموعی آبادی کا تقریباً نصف ہے۔ ڈبلیو ایف پی نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کا اعلان ہونے کے بعد سے ادارہ ہر ماہ تقریباً 16 لاکھ افراد کو غذائی پیکٹ، گندم کا آٹا، روٹی، تیار کھانا، غذائیت سے متعلق معاونت، اسکولوں میں بچوں کیلئے ہلکی غذائی اشیاء اور نقد امداد فراہم کر رہا تھا۔ ڈبلیو ایف پی نے غذائی راشن میں بھی 50 فیصد کمی کر دی ہے۔ اب امداد حاصل کرنے والے خاندانوں کو دو کے بجائے صرف ایک غذائی پیکٹ اور گندم کے آٹے کا نسبتاً چھوٹا تھیلا دیا جائے گا۔ ادارے کی جانب سے روزانہ فراہم کیے جانے والے تیار کھانوں کی تعداد بھی ڈھائی لاکھ سے کم کرکے ڈیڑھ لاکھ کر دی گئی ہے۔ اسی طرح اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول یلو لائن کے قریب کے علاقوں میں، اب روزانہ کے بجائے ایک دن چھوڑ کر تیار کھانا فراہم کیا جائے گا۔ ادارے کے مطابق، غزہ اور مغربی کنارے میں اہم امدادی سرگرمیاں آئندہ چھ ماہ، یعنی اکتوبر 2026 سے مارچ 2027 تک جاری رکھنے کیلئے اسے فوری طور پر 45 کروڑ امریکی ڈالر درکار ہیں۔