پاکستان کی عدالت نے ایک تاریخی فیصلے میں ”کنواری پن کی جانچ“ کو کالعدم قراردیا

,

   

اس فیصلے کا ان سماجی جہدکاروں نے خیر مقدم کیاہے جو طویل مدت سے مردہ کے بنائی ہوئی اس قدیم روایت کو ختم کرنے کے لئے جدوجہد کررہے تھے


ایک تاریخی فیصلے میں پاکستان کی ایک عدالت نے ”دوانگلیوں“ کی جانچ یا”کنوری پن کا ٹسٹ“ جو عصمت ریزی کے جانچ میں میں کیاجاتا ہے اس پر امتناع عائد کردیاہے۔

مذکورہ لاہور ہائی کورٹ نے پیر کے روز اس کو ”شرمندہ کرنے والا“ اور ”فارنسک اہلیت سے عاری“ قراردیتے ہوئے اس مشق کو ختم کرنے کا فیصلہ سنایاہے۔

اس فیصلے کا ان سماجی جہدکاروں نے خیر مقدم کیاہے جو طویل مدت سے مردہ کے بنائی ہوئی اس قدیم روایت کو ختم کرنے کے لئے جدوجہد کررہے تھے۔

عصمت ریزی متاثرہ کے کنواری پن کی جانچ کے لئے نہایت توہین آمیز اندازمیں دو انگلیو ں کا استعمال کرتے ہوئے اعضاء کا معائنہ کیاجا تا تھا۔

اس فیصلے میں جسٹس عائشہ اے ملک نے مانا ہے”کنوری پن کی جانچ نہایت ناگوار‘ جس کی کوئی طبی اہمیت نہیں ہے‘ جنسی تشدید کے معاملات میں میڈیکل پروٹوکال کے نام پر استعمال کیاجارہا ہے۔

یہ شرمندہ کرنے والا عمل ہے‘ جس کا استعمال جنسی تشدد کرنے والے مشتبہ اور ملزم پر کے بجائے متاثرکو شک کے دائرے میں لانے کے طور پر کیاجاتا ہے“۔ عالمی تنظیمیں جیسے ڈبلیو ایچ او نے اس مشق پر امتنا ع کا مطالبہ کیاتھا کیونکہ اس کا کوئی سائنسی پیمانہ نہیں ہے اور یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

مذکورہ لاہور کی عدالت نے اسی طرح کے فیصلے جو آلہ اباد اور گجرات ہائی کورٹس کی جانب سے سنائے گئے ہیں جس میں 2016پر اس مشق پر امتناع عائد کیاگیاتھا کا حوالہ دیاہے۔

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلے میں لکھا گیاہے کہ ”تبدیلی اس وقت لاسکتے ہیں جب تبدیلی کے لئے لوگ ذمہ دار ی لیں‘ قدیم عمل کی تبدیلی کے وجوہات کو تسلیم کریں جس کوزیادہ وقت تک حق بجانب نہیں ٹہرایاجاسکتا ہے۔

صرف کاغذات پر تبدیلی اور تبدیلی کا عدم نفاذ کا مطالب یہ نہیں ہے کہ فیڈیشن یا صوبائی حکومت نے ائین او رعالمی قوانین کے مطابق کام کیاہے۔

لہذا ایک مستقل کوشش کرنی ہوگی تاکہ کنواری پن کی جانچ کو مکمل طور پر روک کو یقینی بنایاجاسکے“