پبلک سرویس کمیشن امتحانات میں دھاندلیاں

   

جونیئر لائین مین امتحان میں نقل نویسی، این ایس یو آئی صدر کا الزام
حیدرآباد ۔8 ۔ جون (سیاست نیوز) کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے امتحانات کے بارے میں حکومت تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ این ایس یو آئی کے ریاستی صدر بی وینکٹ نے کہا کہ جونیئر لائین مین کے تقرر سے متعلق امتحانات کے دوران بڑے پیمانہ پر نقل نویسی کی اطلاعات ملی ہیں۔ 30 اپریل کو سدرن ڈسکام کی جانب سے یہ امتحانات منعقد ہوئے تھے۔ گیتانجلی کالج آف انجنیئرنگ ٹکنالوجی کیسرا میں امتحانی مرکز کے تحت 162 امیدواروںمیں 92 امیدوار کوالیفائی قرار پائے ہیں جبکہ دیگر مراکز پر صرف 2 امیدوار کوالیفائی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ امتحانی پرجہ جات کے افشء کے نتیجہ میں پہلے امتحان کو منسوخ کرتے ہوئے اپریل میں دوبارہ امتحان منعقد کیا گیا ۔ 60,000 امیدواروں نے رجسٹریشن کرایا تھا جبکہ 50,000 نے امتحان میں شرکت کی۔ بی وینکٹ نے کہا کہ ڈیویژنل انجنیئر رمیش پر امتحانی پرچہ کے افشاء کا الزام ہے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ 50 امتحانی مراکز میں صرف ایک مرکز پر 92 امیدواروں کا کوالیفائی قرار پانا شبہات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات میں بڑے پیمانہ پر بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ جن عہدیداروں پر بے قاعدگیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں ان کی نگرانی میں امتحانات منعقد کئے گئے۔ این ایس یو آئی صدر کا کہنا ہے کہ سکریٹری پبلک سرویس کمیشن نے جان بوجھ کر حقائق سے پردہ پوشی کی ہے۔ انہوں نے جونیئر لائین مین کے امتحانات میں بے قاعدگیوں کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ر