دہوں نظر انداز کرنے کی وجہ تاریک دکھائی دیتا ہے
حیدرآباد ۔ 8 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : پبلک گارڈن میں موجود سائنس میوزیم سابق ریاست حیدرآباد کے 1948 میں انڈین یونین میں صم ہونے کے بعد سے ایک اہم ادارہ ہوا کرتا تھا ۔ تقریباً نصف صدی تک اس نے بچوں اور بڑوں کو بھی انسانی صحت کے تمام پہلوؤں سے واقف کروانے کے سلسلہ میں اہم رول ادا کیا ۔ لیکن اب اس کی حالت کچھ ایسی ہوگئی ہے کہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ آیا ریاستی حکومت اسے بند کردینا چاہتی ہے ۔ اس ہیلت میوزیم کو پہلے 1948 میں اس وقت کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر ، پبلک ہیلت ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر سی ایل اہلوالیہ نے چکڑ پلی میں قائم کیا تھا اسے 1952 میں ٹرافی ہال موجودہ جواہر بل بھون منتقل کیا گیا اور بعد میں 1966 میں اجنتا پویلئین منتقل کیا گیا ۔ اس میوزیم پر مناسب توجہ نہ دئیے جانے کے باعث اس کی حالت بتدریج ابتر ہوتی چلی گئی ۔ اس کی اونچی چھت سے لٹکتے ہوئے پیتل سے بنائے گئے چہل چراغ ٹوٹ رہے ہیں ۔ اس چہل چراغ میں غالباً 90 کے دہے میں بلبس کارکرد ہوا کرتے تھے اور اس ہیری ٹیج عمارت میں قدیم الیکٹرک وائرنگ سسٹم تھا جو اب برقی سربراہی نہ ہونے کی وجہ ناکارہ ہوگیا ہے ۔ ہندوستان کے سابق وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو جب 23 جنوری 1953 کو سی ایل اہلوالیہ اور اس وقت کی حکومت حیدرآباد کے وزیر صحت پھول چند گاندھی نے حیدرآباد ہیلت میوزیم کتابچہ پیش کیا تھا تو نہرو نے کہا تھا ’ یہ ایک بہت عمدہ ہیلت میوزیم ہے میں چاہتا ہوں کہ دوسرے شہروں میں بھی اس طرح کے میوزیمس ہوں ‘ ۔ ڈاکٹر پی ارونا چلم نے بھی 30 نومبر 1951 کو جو اس وقت ڈائرکٹر میڈیکل سروسیس مدراس تھے ، اسی انداز میں اس میوزیم کی ستائش کی تھی ۔ لیکن اب اس میوزیم کی حالت خراب ہوگئی ہے اس میں پانی نہیں ہے اور اس میں بدبو آرہی ہے ۔۔