کانگریس پارٹی کا الزام، اسٹانڈنگ کمیٹی میں ایک بھی پراجکٹ پرانے شہرکیلئے منظور نہیں
حیدرآباد۔7۔ جنوری (سیاست نیوز) حیدرآباد ضلع کانگریس کمیٹی نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن پر پرانے شہر کی ترقی کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا اور ترقیاتی کاموں کی تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ حیدرآباد ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر سمیر ولی اللہ نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی اسٹانڈنگ کمیٹی نے 4 جنوری کو اپنے اجلاس میں 9 تجاویز کو منظوری دی ہے لیکن پرانے شہر کے ساؤتھ علاقہ کیلئے ایک بھی ترقیاتی کام کو منظوری نہیں دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ 150 وارڈس میں 43 کا تعلق پرانے شہر سے ہے لیکن اس علاقہ کو ترقیاتی فنڈس میں مناسب حصہ داری نہیں دی جارہی ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلدیہ کا زیادہ تر بجٹ شہر کے نواحی علاقوں کے وارڈس میں خرچ کیا جارہا ہے جبکہ پرانے شہر کے علاقے مکمل طور پر نظر انداز ہیں۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پرانے شہر میں ایک بھی نیا پراجکٹ شروع نہیں کیا گیا ۔ پرانے شہر میں سڑکوں کی توسیع کا کام 4 برسوں سے زیر التواء ہے۔ پرانے شہر کے ساتھ بلدیہ کا امتیازی سلوک ناقابل برداشت ہے۔ بلدی عہدیدار یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پرانے شہر سے ٹیکس وصول نہیں ہوتے لہٰذا ترقیاتی کاموں کی تکمیل ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کی ہزاروں دکانات سے جی ایس ٹی اور دیگر ٹیک وصول کیئے جاتے ہیں ، باوجود اس کے پرانے شہر پر ٹیکس ادا نہ کرنے کا الزام بے بنیاد ہے۔ اپریل 2022 ء میں پراپرٹی ٹیکس کے ذریعہ بلدیہ کو شہر سے 741 پوائنٹ 35 کروڑ کی آمدنی ہوئی جس میں سے پرانے شہر کے چارمینار زون کی حصہ داری 69.64 کروڑ ہے۔ سمیر ولی اللہ نے ہر وارڈ اور زون کی سطح پر ریونیو کلکشن کے بارے میں وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کی ترقی پر خرچ کئے جارہے فنڈس کی تفصیلات بھی عوام کیلئے جاری کی جائیں۔ر