پرانے شہر میں میٹرو ریل کیلئے سروے کا آغاز

   

کیا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا یا پھر ٹال مٹول کی نذر ہوگا، عوام میں موضوع بحث

حیدرآباد۔ 29 جون (سیاست نیوز) پرانے شہر میں میٹرو ریل دوڑنے کا خواب کیا شرمندہ تعبیر ہوگا یا پھر کوئی ٹال مٹول کی پالیسی اپناتے ہوئے پرانے شہر کو میٹرو ریل سے محروم رکھا جائے گا۔ شہر حیدرآباد بالخصوص گنجان آبادی والے پرانے شہر میں یہ مسئلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ آنجہانی چیف منسٹر ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کے دور حکومت میں جب حیدرآباد میں میٹرو ریل پراجکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تب افضل گنج سے فلک نما تک میٹرو ریل چلانے کا منصوبہ تھا، لیکن اس کو عملی جامہ نہیں پہنایاگیا اور میٹرو ریل کی خدمات سے پرانے شہر کے عوام کو محروم رکھا گیا ہے۔ حیدرآباد میٹرو ریل کے انجینئرس کی جانب سے پرانے شہر میں میٹرو ریل چلانے کا جائزہ لینے کے لئے پھر سے سروے کا آغاز کیا گیا ہے۔ بتایا جارہا ہیکہ ایک ہفتہ میں یہ سروے مکمل ہو جائے گا۔ پہلے جو روٹ پلان تیار کیا گیا تھا اس کا ازسرنو جائزہ لیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ اسمبلی اجلاس کے دوران تلنگانہ حکومت نے پرانے شہر میں میٹرو ریل چلانے کا اعلان کیا تھا اور گریٹر حیدرآباد میں میٹرو ریل کو توسیع دینے کے لئے بجٹ بھی مختص کیا ہے جس کی وجہ سے پرانے شہر میں دوبارہ سروے کیا جارہا ہے۔ امید کی جارہی ہیکہ سروے کا کام مکمل ہونے کے بعد تعمیری کاموں کا آغاز کیا جائے گا۔ گریٹر حیدرآباد میں 69 کیلو میٹر طویل تین کاریڈارس میںمیٹرو ریل چلائی جارہی ہے۔ کورونا بحران کے دوران اس میں سفر کرنے والوں کی تعداد کم ہوگئی تھی مگر حالات بحال ہو جانے کے بعد اب یومیہ تین لاکھ افراد میٹرو ریل سے سفر کررہے ہیں۔ ن