نئی دہلی، 22 جولائی (یو این آئی) کانگریس سمیت مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے اراکینِ پارلیمنٹ نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو برطرف کرنے کے مطالبہ کے حق میں چہارشنبہ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دوار پر مظاہرہ کیا۔لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی ایک گھنٹے کے لیے ملتوی ہونے کے بعد اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ، پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دوار پر جمع ہوئے ۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینر اور تختیاں لے کر مسٹر پردھان کو برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ مظاہرے کے دوران اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ طلبہ کے ساتھ ہو رہی ناانصافی کی اصل وجہ سوالناموں کے لیک ہونے کے واقعات ہیں اور اس کے لیے وزیرِ تعلیم ہی پوری طرح ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے مسٹر پردھان کو ہٹایا جانا چاہیے ۔ اراکینِ پارلیمنٹ کے ہاتھوں میں ‘دھرمیندر پردھان کو برطرف کرو’ جیسے نعرے لکھی تختیاں بھی تھیں۔مظاہرے میں کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھرگے ، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی، کانگریس کی جنرل سکریٹری محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا، کے سی وینوگوپال، گورو گوگوئی، دیپیندر سنگھ ہڈا، گرجیت سنگھ اوجلا، ڈی ایم کے ، سماجوادی پارٹی کے اکھلیش یادو، دھرمیندر یادو، اودھیش پرشاد، رام گوپال یادو، ترنمول کانگریس کے سوگت رائے اور کلیان بنرجی سمیت اپوزیشن پارٹیوں کے متعدد اراکینِ پارلیمنٹ شامل ہوئے ۔
دھرمیندر پردھان کے استعفی کا مطالبہ ، یوتھ کانگریس کا احتجاج
وارانسی، 22 جولائی (یواین آئی) لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی کے مطالبے کو لے کر مہانگر یوتھ کانگریس نے بدھ کے روز مہانگر صدر چنچل شرما کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کے دوران پولیس نے شرما سمیت متعدد عہدیداروں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق یوتھ کانگریس کے کارکنان رویندر پوری میں واقع بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمے کی طرف مارچ کرنے کے لیے جمع ہوئے ۔ آئین کے نسخے ہاتھوں میں لیے کارکنوں نے جمہوریت، آئین اور طلبہ و نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ کی حمایت میں نعرے لگائے ۔ مظاہرین نے راہل گاندھی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی مذمت کرتے ہوئے دھرمیندر پردھان سے اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے فوری طور پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔