پسماندہ مسلمان حکومت سے اپنا حق مانگیں ‘ حکومت خود سے کچھ نہیں کرے گی

   

چوٹ اپل میں سیاست ہب فاونڈیشن سے 50 اسٹون کٹنگ مشینوں کی تقسیم ۔ جناب عامر علی خان و سی پی آئی ایم ایل سی ستیم کا خطاب
حیدرآباد ۔ 26 ۔ مئی : ( سیاست نیوز) : نیوز ایڈیٹرسیاست جناب عامر علی خان نے معاشی طور پر انتہائی پسماندہ مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنا حق مانگیں اگر حکومت سے اپنا حق مانگنے سے گریز کریں گے تو حکومت بھی ان کی مدد نہیں کرے گی ۔ آج ان محروم طبقات کو معاشی طور پر با اختیار بنانا ضروری ہے اور اسی مقصد کے تحت انہوں نے پتھر پھوڑ نے کے پیشے سے وابستہ طبقے کی مدد کا بیڑا اٹھایا چنانچہ اس کیلئے خود انہوں نے پہل کی اور ایک سو سے زائد مرد و خواتین میں پتھر پھوڑنے والی مشینوں یا اسٹون کٹنگ مشینوں کے ساتھ سلائی مشینوں کی تقسیم عمل میں لائی ۔ انہوں نے یہی چاہا کہ حکومت مسلمانوں کے ان پسماندہ طبقات کی مدد کیلئے اگے آئے اور آج بھی ان کی یہی خواہش ہے کہ غریب مسلمان معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔ جناب عامر علی خان چو ٹ اپل میں منعقد ایک خصوصی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس پروگرام میں جناب عامر علی خان کے قائم کردہ سیاست ہب فاؤنڈیشن کی جانب سے پتھر پھوڑ نے کے پیشے سے وابستہ 50 افراد میں اسٹون کٹنگ مشینوں کی تقسیم عمل میں آئی ۔ اس موقع پر سی پی آئی کے ایم ایل سی مسٹر ستیم بھی موجود تھے ۔ جناب عامرعلی خان نے کہا کہ اس پیشے سے وابستہ لوگوں کی مدد کیلئے انہوں نے ریاستی اقلیتی ما لیا تی کارپوریشن کے ذریعے ایک اسکیم شروع کروانے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس ضمن میں یہ اعلان بھی کیا گیا تھا کہ کم از کم 2ہزار ورکروں میں پانچ کروڑ کی لاگت سے مشینوں کی تقسیم عمل میں لائی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہو سکا ۔ انہوں نے شرکا کو یاد دلایا کہ آج حکومت بہبودی اسکیمات کیلئے کوئی رقم نہیں دے رہی ہے آپ کو اس کیلئے جمہوری انداز میں لڑنا ہوگا اور اپنا حق حاصل کرنا ہوگا تبھی آپ سب معاشی اعتبار سے با اختیار ہوں گے ۔ انہوں نے پر زور انداز میں کہا کہ کے سی آر نے اپنی حکومت کے دوران مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن جب وعدہ وفا نہیں ہوا تو ہم نے کوئی مار پیٹ نہیں کی بلکہ ساری ریاست میں بی ار ایس ارکان اسمبلی ارکان پارلیمان اور بی ار ایس لیڈروں سے جہاں بھی ملاقات ہوتی ان سے یہ سوال کرتے کہ ہمارے 12 فیصد تحفظات کا کیا ہوا اپ بھی ایسا ہی کیجئے کانگرس لیڈروں سے سوال کیجئے کہ ہمارے 2000 مشینوں کا کیا ہوا ۔ نیو ز ایڈیٹر سیاست نے اس محنت کش طبقے سے کہا کہ آپ اور ہم مل کر وزیر فینانس اور اقلیتی مالیاتی کارپوریشن صدر نشین سے نمائندگی کریں گے اور انہیں یاد دلائیں گے کہ پانچ کروڑ کی لاگت سے ہماری بہبود کیلئے شروع کی جانے والی اسکیم کا کیا ہوا جب تک اپ پوچھیں گے نہیں کوئی بھی اپ کو نہیں پوچھے گا ۔ آپ کو ایم پی ایم ایل اے اور ضلع پریشد قائدین پر دباؤ ڈالنا ہوگا ۔ جناب عا مر علی خان نے ملک کے موجودہ حالات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہندوستان کئی ایک مسائل کا سامنا کر رہا ہے لیکن مودی کو مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کو شکست دینے میں دلچسپی تھی اور پھر ہم سب نے دیکھا کہ کس طرح مرکزی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا جس سے عام آدمی پر بوجھ پڑا ہے ۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ سیاست ہب فاؤنڈیشن ایک غیر منفعت بخش ادارہ ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو معاشی با اختیار بنانا ہے سیاست ہب فاؤنڈیشن سے آج 50 محنت کشوں میں میں مشینوں کی تقسیم عمل میں لانے کا مقصد حکومت کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ پتھر پھوڑنے والے ان غریبوں کے ساتھ کیے گئے وعدے کو پورا کرے ۔ اس موقع پر مسٹر ستیم ایم ایل سی نے کہا کہ وہ عامر علی خان کے ساتھ ان غریب مسلمانوں کی مدد کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالیں گے۔