پنت ہندوستان کے مستقبل کے کپتان

   

نئی دہلی ۔ ہندوستان کے سابق کرکٹر ارون لال نے کہا ہے کہ روہت شرما کے بعد ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کرنے کے لیے رشبھ پنت میں تمام خوبیاں موجود ہیں۔66 سالہ ارون لال جنہوں نے حال ہی میں بنگال کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا، پنت کی ٹسٹ اور محدود اوورز دونوں فارمیٹس میں دباؤ میں کھیل بدلنے کی صلاحیت کی تعریف کی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا روہت شرما کے بعد رشبھ پنت مستقبل کے کپتان ہیں۔ہاں، بالکل مجھے ہمیشہ لگتا ہے کہ کپتان کو ٹیم میں ٹاپ تھری میں اپنی جگہ کا حقدار ہونا چاہیے۔ وہ (پنت) ہے جو کھیلنے سے نہیں ڈرتا۔ اس کا کھیل، دباؤ کو اچھی طرح سے قابو کر سکتا ہے، ٹیم کو مشکل حالات سے نکال سکتا ہے اور ایسا کھلاڑی ایک عظیم لیڈر ہو سکتا ہے۔ یہ ہندوستانی کرکٹ کے لیے اچھا ہوگا اگر ہم پنت جیسے جارحانہ کھلاڑی کو ٹیم کے کپتان بنا سکیں۔انہوں نے مزید کہاکہ ایک وقت تھا جب ٹسٹ کرکٹ میں جیت کو ایک بار ڈراکیا جاتا تھا لیکن اب یہ سوچ بدل گئی ہے اور میں اس کا پورا سہرا ویراٹ کوہلی کو دیتا ہوں، انہوں نے ٹیم کی ذہنیت کو تبدیل کیا اور ٹیم کوصرف جیت کے کھیلنے پر مجبور کیا۔ ہارنے کا خوف کھلاڑیوں کے دلوں سے نکال دیا ۔ ویراٹ ٹیم میں اس جارحیت کو لے کر آئے اور اگر پنت اسے جاری رکھ سکتے ہیں تو اس سے بہتر نہیں ہو سکتا۔ اگر پنت مسلسل کھیل سکتے ہیں تو وہ ہندوستانی ٹیم کے لئے ہیرو ہوں گے۔ پنت کے ناقابل شکست 125 رنز کی بدولت ہندوستان نے اتوار کو اولڈ ٹریفورڈ میں تیسرے ونڈے میں انگلینڈ کے خلاف پانچ وکٹوں سے فتح حاصل کی اور سیریز 2-1 سے جیت لی۔ پنت انگلینڈ میں ونڈے اور ٹسٹ کرکٹ دونوں میں سنچری بنانے والے پہلے ایشیائی وکٹ کیپر بیٹر بھی بن گئے ہیں۔ ارون لال نے کہا کہ پنت اپنی صلاحیت کے لحاظ سے بے مثال ہیں کہ وہ نہ صرف سنچریاں بناتے ہیں بلکہ وہ جیتنے کے مقصد اور مشکل حالات میں بھی اسکورکرتے ہیں۔ اگر آپ ریڈ بال فارمیٹ میں اچھا کھیلتے ہیں تو اس بات کے امکانات ہیں کہ آپ وائٹ بال فارمیٹ میں بھی تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ اگر آپ وائٹ بال فارمیٹ میں اچھا کھیلتے ہیں تو آپ ریڈ بال فارمیٹ میں بھی اسی طرح کارکردگی دکھا سکے گا کیونکہ ٹسٹ کرکٹ میں آپ کو مختلف مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے، مختلف قسم کے دباؤ کو سنبھالنے کی صلاحیت، پانچ روزہ کرکٹ کو برقرار رکھنے کے لیے جسمانی فٹنس کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے رشبھ پنت کو دیکھا ہے۔ ٹسٹ اور محدود اوورز دونوں فارمیٹس میں مقابلے کا نقشہ بدلنا ان کے لئے آسان ہے۔یہ سنچریاں بنانے کی بات نہیں، بلکہ ایک ایسی سنچری ہے جو مشکل حالات میں آتی ہے اور شکست کے جبڑوں سے فتح چھیننے میں مدد دیتی ہے۔ لال نے کہا 50 رنز پر 5 وکٹوں کی نازک صورت حال پر سنچری لگانا 4 کے نقصان پر 500 رنز پر سنچری بنانے سے زیادہ خاص ہے۔ یہ مہارت آپ کو نمایاں ہونے میں مدد دیتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایک نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑی ہے اور اپنے کھیل کے انداز سے کافی دلچسپی پیدا کر رہا ہے۔ یہ بہت اچھا ہو گا اگر وہ اس طرح کھیلنا جاری رکھ سکے کیونکہ وہ گیم چینجر ہے۔