پنجاب اورہریانہ میں کسانوں کی بڑی کامیابی

,

   

آج سے دھان کی خریدی کرنے مرکزی حکومت کا فیصلہ‘احتجاج ختم
چنڈی گڑھ: پنجاب اور ہریانہ میں کسانوں کے زبردست احتجاجی مظاہروں کے سامنے مرکزی حکومت نے گھٹنے ٹیک دئے ہیں۔ حکومت اب دھان کی خرید 11 اکتوبر کے بجائے 3 اکتوبر یعنی کل سے شروع کرنے جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے ہفتہ کے روز مرکزی وزیر اشونی چوبے کے ساتھ ایک اجلاس طلب کیا، جس میں یہ فیصلہ لیا گیا۔کانگریس پارٹی نے دھان خریدی کی تاریخ میں تبدیلی کو کسانوں کی زبرست جیت قرار دیا ہے اور اس کا سہرا وزیر اعلیٰ پنجاب چرنجیت سنگھ چنی کے سر باندھا ہے۔ پارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چنی نے وزیر اعظمٰ نریندر مودی سے ملاقات کے دوران دھان خرید کا مسئلہ اٹھایا تھا۔حکومت کے فیصلے کے بعد کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ٹوئٹ کیا، ’’یہ کسانوں کی زبردست جیت ہے۔ کسانوں کی دھان خریدی کو 11 اکتوبر تک ملتوی کرنے کے مودی حکومت کے تکبر والے فیصلے کو آخر کسانوں کے دباو میں واپس لینا پڑا۔ کل یہ مطالبہ کانگریس نے اٹھایا تھا اور پنجاب کے وزیرا علیٰ چرنجیت سنگھ چنی نے بذات خود وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی۔ اسی طرح تین سیاہ قوانین کو بھی منسوخ کرنا پڑے گا۔‘‘دونوں ریاستوں میں اتوار کے روز سے دھان خرید کے اعلان کے ساتھ ہی کانگریس نے کچھ مطالبات بھی رکھے ہیں۔ ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا، ’’اب ہمارا مطالبہ ہے کہ منڈیوں میں پڑا ایک ایک دانا 24 گھنٹے میں خریدا جائے اور اس کی ادائیگی کی جائے۔ سال۔-22 2021 کے لئے خرید کی شرائط فوری جاری کی جائیں۔ حکومت کے فیصلے کے بعد کسانوں نے دھان کی خریداری کے لیے کیا جا رہا احتجاج ختم کر دیا ہے۔ سنیوکت کسان مورچہ نے اعلان کیا کہ چونکہ حکومت نے کل سے دھان کی خریداری شروع کر دی ہے۔ لہذا کسان مورچہ پنجاب اور ہریانہ میں اپنا احتجاج واپس لے رہا ہے۔ احتجاج کے دوران کسانوں اور پولیس میں دھکم پیل بھی ہوئی اور پولیس نے احتجاجی کسانوں کو منتشر کرنے پانی کی بوچھاروں کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج بھی کیا گیا ۔