پنجاب میں ہر طرف غیر قانونی کانکنی کا بول بالا

   

راوی ندی سے آنند پور صاحب اور روپڑ تک وسائل کی لوٹ، بی جے پی جنرل سکریٹری ترون چگ کی پریس کانفرنس

نئی دہلی۔ 8 اگست (یو این آئی) بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ پنجاب میں قدرتی وسائل لوٹے جا رہے ہیں، کھلم کھلا غیر قانونی کان کنی ہو رہی ہے اور حکومت مائننگ مافیا کولگام لگانے میں مکمل طور پر ناکام ہے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے ریاست میں غیر اعلانیہ سنسرشپ لگا رکھی ہے ۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ترون چُگ نے ہفتہ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک صحافتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں پنجاب کے وسائل کو لوٹا جا رہا ہے ۔ راوی ندی ہو، پٹھان کوٹ کا چک دریا ہو، یا آنند پور صاحب اور ہوشیار پور، روپڑ کا علاقہ ہو، وہاں کھلم کھلا غیر قانونی کان کنی ہو رہی ہے ۔ چاہے راوی ندی ہو یا آنند پور صاحب-روپڑ کا علاقہ، غیر قانونی کان کنی کھلم کھلا ہو رہی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امن و قانون کا نظام مکمل طور پر ابتر ہو چکا ہے اور پوری ریاست میں خوف کا ماحول ہے ۔ ریاست میں پیپر لیک ہو رہے ہیں، طلباء ڈرے ہوئے ہیں اور امن و قانون مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھتہ خوری، وصولی اور اذیت گاہوں کے باعث پورا پنجاب خوف کے ماحول میں ہے ۔ اگر کوئی آواز اٹھاتا ہے تو اسے مارا پیٹا جاتا ہے اور عوامی طور پر ذات پات سے متعلق تبصرے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صفائی ملازمین اور خواتین جب پرامن طریقہ سے سڑکوں پر احتجاج کرتی ہیں تو ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے ۔ پنجاب میں پولیس تحفظ کے بجائے عوام کے استحصال کیلئے استعمال ہو رہی ہے ۔ جتنی بھی تحریکیں چل رہی ہیں، چاہے وہ صفائی ملازمین کی تحریک ہو، بھرتی گھوٹالے کے خلاف تحریک ہو یا کسانوں کی تحریک ہو، ہر تحریک میں پولیس مظاہرین کی بات سننے کے بجائے انہیں کچلنے کا کام کر رہی ہے ۔ چُگ نے الزام لگایا کہ پنجاب کے اندر غیر اعلانیہ سنسرشپ لگی ہوئی ہے ۔ وہاں اخبار کیا لکھے گا، کیا چھاپے گا، ٹی وی کیا دکھائے گا اور کیا نہیں دکھائے گا، یہ بھگونت مان کا دفتر طے کرتا ہے ۔
دہلی میں رکنِ پارلیمنٹ سواتی مالیوال پر وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ میں حملہ کر کے پیٹنے والے ویبھو کمار پنجاب میں ایک متوازی سنسر بورڈ چلا رہے ہیں۔ ایک ایسا سنسر بورڈ جو اخباروں کو روکتا ہے اور تحقیقات کرنے کے بہانے شرائط منواتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اخباروں میں شیش محل-2 نہ چھپے ، اس کے لیے بڑے بڑے اخباروں اور نیوز ایجنسیوں کو ڈرایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کیجریوال نے وعدوں کی بنیاد پر ایسی اسکیمیں شروع کی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ پانچ سالوں میں ایک لاکھ کروڑ روپے کی آمدنی ہوگی جس کا استعمال صحت اور تعلیم کے لیے کیا جائے گا، لیکن پنجاب میں اس کے ذریعہ ریاست کو 800-900 کروڑ روپے بھی نہیں ملے ۔