ہاپوڑ: اتر پردیش کے ہاپوڑ ضلع میں ایک گاؤں کی پنچایت نے ایک لڑکی کو حکم دیا کہ وہ ایک لڑکے کو اس کی چپل سے مارے کیونکہ اس کی چیٹ کی ویڈیو اس نے افشا کی جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ ملزم نے ایک لڑکی سے اپنی گفتگو ریکارڈ کی اور پھر اسے مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر پھیلا دیا۔ لڑکے کو چپل سے مارنے کی سزا کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں لڑکی اپنے چپل سے لڑکے کو مارتی نظر آرہی ہے۔ یہاں تک کہ ایک دیہاتی کو لڑکے کو اپنا چہرہ نہ چھپانے اور اس کی قمیض پھاڑتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے۔گاؤں والوں کو ملزم کو لڑکی سے معافی مانگنے کی ہدایت کرتے ہوئے سنا جاتا ہے۔گڑھ مکتیشور علاقے کے سرکل آفیسر ابھیشیک سنہا نے بتایا کہ لڑکی نے 13 اگست کو بہادرگڑھ تھانے میں اس شخص کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔اس نے بتایا کہ لڑکی اور لڑکے کا رشتہ تھا۔ سوشل میڈیا پرگردش کرنے والی ویڈیو کے بارے میں گھر والوں کو معلوم ہوا تو لڑکی نے شکایت درج کروائی۔ ہاپوڑ ضلع کے گڑھ مکتیشور علاقے کے سرکل آفیسر ابھیشیک سنہا نے کہا، لڑکی کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ سنہا نے کہ ہم اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کر سکتے جس میں لڑکی اسے مارتے ہوئے نظر آرہی ہے۔ دریں اثنا، نیٹیزین نے حکم نامے کی مخالفت کی ہے اور پنچایت بلانے کی ضرورت پر سوال اٹھایا ہے جب ایک مقدمہ پہلے ہی درج کیا گیا تھا۔