پوار نے برقی ترمیم بل کی مخالفت کی‘ کہاکہ اس کا نفاذ صارفین کے لئے نقصاندہ ہوگا

,

   

مذکورہ راجیہ سبھا ایم پی نے کہاکہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں بل کے لئے موجودہ خد وخال کے ساتھ راہ کو منظوری نہیں دی گئی اور اس کے قواعد کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھے گی


ناسک۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی(این سی پی) صدر شرد پوار نے حال ہی میں پارلیمنٹ میں متعارف کردہ برقی (ترمیم) بل 2022کی سختی کے ساتھ مخالفت اور زوردیتے ہوئے کہاکہ اس کا نفاذ توانائی صارفین کو پیش کی جانے والی رعایت کو ختم کردیگا‘ اس کا شدید اثر حکومت کی نگرانی میں چلائے جانے والے انرجی کمپنیوں پڑیگا اور ملازمتوں جانے کا سبب بنے گا۔

مذکورہ راجیہ سبھا ایم پی نے کہاکہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں بل کے لئے موجودہ خد وخال کے ساتھ راہ کو منظوری نہیں دی گئی اور اس کے قواعد کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھے گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوار نے کہاکہ مذکورہ اپوزیشن نے واضح طورپر مرکزی حکومت کو پیغام دیاکہ وہ موجودہ خد وخال میں بل کو منظوری کی اجازت نہیں دیگا۔سابق مرکزی وزیر نے کہاکہ ”چند دن قبل برقی ایکٹ2003ترمیم بل پارلیمنٹ میں متعارف کروایاگیا۔

ہم اس کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ اس کانفاذ توانائی رعایت کو روک دیگا‘ سرکاری طور پر چلائی جانے والی انرجی کمپنیوں بند ہوجائیں گے اور ملازمتیں چلی جائیں گی“۔

پوار لوک سبھا میں اس کو منظوری مل سکتی ہے کیونکہ وہاں پر نریندر مودی حکومت اکثریت میں ہے مگر راجیہ سبھا میں اس کو اکثریت نہیں ملے گی جہاں پر برسراقتدار جماعت کے پاس اراکین کی تعداد کافی نہیں ہے۔

انہوں نے دعوی کیاکہ توانائی کے شعبہ میں سرکاری اداروں کو بھی خانگیانہ کرنے پر حکومت غور کررہی ہے۔این سی پی لیڈر نے کہاکہ ”مذکورہ بل پارلیمانی کمیٹی کے پاس ہے۔ موجودہ انداز میں اس کی منظوری کو یہ قانون منظور کرنے کی اجازت نہیں دینا ہمارا موقف ہے“۔

مہارشٹرا الکٹرک سٹی ورکرس فیڈرشن کے ایک کنونشن سے پوار خطاب کررہے تھے۔

سینئر سیاست داں نے کہاکہ 40,000سے 42,000جائیدادیں ریاستی حکومت کی نگرانی میں چلانے جانے والے برقی اداروں پر بھرتی کی جانی چاہئے اور ترجیحات انہیں دی جائے جوان عہدوں پرکنٹراکٹ کی بنیاد پر کام کررہے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہارشٹرا کے سابق چیف منسٹر چھگن بھوجپل نے کہاکہ ریاستی سرکاری کمپنیوں کوخانگی نہیں کیاجانا چاہئے۔این سی پی لیڈرنے کہاکہ تمام ورکرس‘ ملازمین کسان اورعام آدمی کو ریاستی اداروں کوخانگیانہ کرنے کے لئے خلاف لڑائی میں ملکر آگے آنا چاہئے۔