پولٹری اور ہارٹیکلچر انڈسٹری میں پڑوسی ریاستوں کی تلنگانہ میں زائد حصہ داری

   

مقامی سطح پر نوجوان توجہ دیں، تلنگانہ ملک کا ہارٹیکلچر ہب بن سکتا ہے
حیدرآباد ۔ 23 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ نے زرعی شعبہ میں دھان کی پیداوار کے ذریعہ ہندوستان کی نمبر ون ریاست کا موقف حاصل کرلیا ہے ۔ زرعی شعبہ سے مربوط ہارٹیکلچر اور پولٹری انڈسٹری میں بھی تلنگانہ ملک کے لئے رول ماڈل بن سکتا ہے، بشرطیکہ ان شعبہ جات سے وابستہ افراد توجہ دیں۔ تلنگانہ میں پولٹری انڈسٹری اور ترکاریوں کی پیداوار کے فروغ کے لئے کئی امکانات دستیاب ہیں لیکن آج بھی دیگر ریاستوں سے ان اشیاء کو حاصل کرتے ہوئے مقامی صلاحیتوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ تلنگانہ میں دیسی چکن ایک اندازہ کے مطابق 70 ٹن استعمال ہوتا ہے جن میں 15 صرف فیصد ہی تلنگانہ سے تعلق رکھتا ہے جبکہ باقی آندھراپردیش اور دیگر پڑوسی ریاستوں سے حاصل کیا جارہا ہے ۔ اسی طرح انڈوں کی سربراہی میں ٹاملناڈو کا اہم رول ہے۔ حکومت کی جانب سے مختلف صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے اور شہر کے اطراف کئی انڈسٹریل کلسٹرس قائم کئے جائیں گے۔ ایسے میں مقامی افراد پولٹری انڈسٹری سے وابستہ ہوکر مقامی ضرورتوں کی تکمیل کرپائیں گے ۔ ہارٹیکلچر کے تحت فروٹس اور ترکاری کی بہتر پیداوار کیلئے تلنگانہ کی سرزمین سازگار ہے۔ نئے صنعت کاروں کو پولٹری انڈسٹری اور ہارٹیکلچر سے وابستہ ہوتے ہوئے اپنی تجارت کو فروغ دینے کی مساعی کرنی چاہئے ۔ تلنگانہ کی مجموعی ترقی میں زرعی شعبہ کی حصہ داری 32 فیصد ہے۔ مالیاتی سال 2023-24 میں تلنگانہ میں دھان کی پیداوار 168.75 لاکھ میٹرک ٹن درج کی گئی جو ملک میں ایک ریکارڈ ہے۔ ایک سال قبل دھان کی پیداوار 158.77 لاکھ میٹرک ٹن درج کی گئی تھی ۔ خریف اور ربیع سیزن میں پیداوار علی الترتیب 93.44 لاکھ میٹرک ٹن اور 75.3 لاکھ میٹرک ٹن درج کی گئی ۔ 46.85 لاکھ ہیکٹر اراضی پر یہ پیداوار ہوئی ہے۔ زرعی شعبہ کی ترقی کے نتیجہ میں اناج کی مختلف اقسام سے تیار کی جانے والی اشیاء کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے ۔ مختلف اجناس پر مشتمل حلیم حتیٰ کہ آئسکریم بھی تیار کی جارہی ہے جسے مارکٹ میں ملیت حلیم ملیت آئسکریم کا نام دیا گیا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نوجوان پولٹری اور ہارٹیکلچر انڈسٹری کو اختیار کریں تو نہ صرف ریاست کی معیشت بہتر ہوگی بلکہ کئی خاندانوں کی معاشی ترقی ممکن ہوگی۔1