انضمام حیدرآباد کے تاریخی واقعات کو مسخ کرنے کا الزام، مسلمانوں کو قصوروار ٹھہرانا ہرگز قبول نہیں: شیخ فاروق حسین
محبوب نگر۔ 18 ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مرکزی حکومت میں وزراء کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تلنگانہ کے بی جے پی ارکانِ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ حیدرآباد اسٹیٹ کے 17 ستمبر کو ہندوستان میں انضمام کے موقع پر پیش آنے والے تاریخی واقعات کو پسِ پشت ڈال کر مسلمانوں کو قصوروار قرار دینے اور عوام کو گمراہ کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششوں سے گریز کریں۔ یہ بات آل میوا کے چیئرمین شیخ فاروق حسین نے کہی۔ انہوں نے آج شاہ صاحب گٹہ میں واقع تنظیم کے دفتر میں ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 17 ستمبر کو برطانوی ہندوستان کا حصہ رہنے والی حیدرآباد اسٹیٹ کے ہندوستان میں انضمام کے دوران ’’پولیس ایکشن‘‘ کے نام پر اس خطے کے عوام، بالخصوص بڑی تعداد میں بے گناہ مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کی گئی۔ ان کے مطابق، بے شمار افراد ہلاک ہوئے اور مسلمانوں کے مال، عزت اور جان و مال کا تحفظ ختم ہوگیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس علاقہ کے کنویں اور تالاب مسلم خواتین کی لاشوں سے بھر گئے تھے۔انہوں نے سوال کیا کہ ان واقعات کا ذکر کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیا صرف سیاسی فائدے کے لیے متاثرہ مسلم برادری ہی کو قصوروار قرار دیا جائے گا؟انہوں نے مزید کہا کہ ہر معاملے میں رضاکاروں کے قائد قاسم رضوی کو ذمہ دار قرار دے کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ ان کے مطابق وسنْور کے دور رام چندر ریڈی رضاکاروں کے نائب قائد تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی سماجی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد مختلف دیہات میں دیشمکھ، پٹیل اور پٹواری کی حیثیت سے موجود تھے اور عوام پر ظلم و جبر جاری رکھتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ناقابلِ برداشت حالات کے خلاف عوام متحد ہوئے اور تلنگانہ مسلح جدوجہد کے ذریعہ ایسے عناصر کو دیہات سے نکال باہر کیا۔ تاہم، ان کے مطابق، فوج کی مدد سے دوبارہ ان لوگوں نے دیہات میں داخل ہوکر بے گناہ مسلمانوں، دلتوں اور کمزور طبقات پر ظلم و ستم کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی جے پی کے قائدین کو یہ واقعات کیوں یاد نہیں آتے؟اس اجلاس میں منتاز علی، شیخ مجیب، شیخ عبداللہ، محمد نورالدین، شاہ عالم، محمد نجیم الدین، احمد اور دیگر افراد نے شرکت کی۔