دہلی پولیس نے جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ میں جے این یو کے طالب علم شرجیل امام کی ضمانت کی عرضی کی مخالفت کی۔ انہیں شہریت ترمیمی قانون اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کے خلاف احتجاج کے دوران مبینہ اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزام میں سال 2019 میں گرفتار کیا گیا تھا۔پولیس نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے 24 جنوری کو ضمانت کی درخواست پر جو فیصلہ سنایا اور جسے امام نے چیلنج کیا ہے وہ واضح، قانونی طور پر درست ہے اور اس میں کوئی عنصر نہیں ہے جس کی بنیاد پر ہائی کورٹ مداخلت کرے۔جسٹس سدھارتھ مردول اور جسٹس رجنیش بھٹناگر کی بنچ نے اس معاملے کی مزید سماعت 29 اپریل کیلئے درج کی۔جب امام کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے سماعت کی جلد تاریخ کی درخواست کی تو بنچ نے کہاکہ عدالت کو ہراساں نہ کریں اور عدالت کو ڈرانے کی کوشش نہ کریں۔پولیس نے امام کی درخواست ضمانت کے جواب میں جمع کرائی گئی اسٹیٹس رپورٹ میں کہا کہ ملزم نے غلط بیان کیا ہے کہ 170 سے زائد گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جا چکے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کیس میں صرف 43 گواہ شامل ہیں۔