نئی دہلی : پٹرول اور ڈیزل ملک اور معیشت کی جان ہوتے ہیں اور اس میں کسی بھی تبدیلی کا عوام پر راست اثر ہوتا ہے ۔ مرکز کی مودی زیرقیادت حکومت اور ریاستی حکومتوں کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عوام کی اب کوئی پرواہ نہیں رہی اور وہ بے حس بن چکی ہیں۔ گزشتہ کئی مہینوں سے کئی کئی دن اور مہینے میں دو ، دو درجن مرتبہ تک پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ کیا جارہا ہے ۔ آج یکم نومبر کو مسلسل چوتھے روز پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ۔ دہلی میں پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمت میں 35 ، 35پیسے کا اضافہ کیا گیا ۔ پٹرول اب 109.69 روپئے اور ڈیزل 98.42 روپئے فی لیٹر فروخت ہورہا ہے ۔ حیدرآباد میں پٹرول 40 پیسے اور ڈیزل 42 پیسے مہنگا کردیا گیا ۔ تلنگانہ کے دارالحکومت میں پٹرول 114.12 روپئے اور ڈیزل 107.40 روپئے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اس طرح اضافہ نہیں ہورہا ہے جس طرح ہندوستان میں کیا جارہا ہے بلکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں لگاتار اضافہ حکومتوں کے ٹیکس میں اضافہ کے سبب ہے ۔