سبسیڈی تقریبا ختم ، ڈیلوری بوائز 20 تا 50 روپئے چارجس طلب کررہے ہیں ۔ ماہانہ 20 لاکھ سیلنڈرس کی سربراہی
حیدرآباد ۔ 7 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : پکوان گیس سلنڈر کی قیمت میں 50 روپئے کا اضافہ ہوجانے سے شہر حیدرآباد کے عوام پر 10 کروڑ روپئے کا اضافی مالی بوجھ عائد ہوگیا ہے ۔ گذشتہ ایک سال سے وقفہ وقفہ سے پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ نیا گیس کنکشن حاصل کرنا مزید مہنگا ہوگیا ہے ۔ گذشتہ سال جولائی سے آئیل کمپنیوں نے 14.2 کلو گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت میں 218 روپئے کا اضافہ کردیا ہے ۔ تازہ 50 روپئے کے اضافہ سے 1055 روپئے میں دستیاب ہونے والا پکوان گیس سلنڈر کی قیمت بڑھ کر 1105 روپئے تک پہونچ چکی ہے ۔ عام طور پر ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو آئیل کمپنیوں کی جانب سے گیس سلنڈر کی قیمتوں میں نظر ثانی کی جارہی ہے ۔ یکم جولائی کو 19 کلو کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت میں 183.50 کی کمی کی گئی پھر تازہ طور پر مزید 8.50 روپئے کی کمی کی گئی ۔ تاہم گھریلو پکوان گیس سلنڈر کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ۔ قیمتوں میں اضافہ کے بعد ایک ہفتہ قبل بھی گیس بک کرنے والوں سے نئی قیمتیں وصول کی جاتی ہے ۔ مئی میں گھریلو پکوان گیس کی قیمت میں 50 روپئے کا اضافہ کرتے ہوئے 1052 روپئے کیا گیا تھا ۔ اس کے کمیشن قمت کے طور پر مزید 3 روپئے اضافہ پھر 50 روپئے کا اضافہ کرنے سے پکوان گیس کی قیمت بڑھ کر 1150 روپئے تک پہونچ چکی ہے ۔ سبسیڈی میں کٹوتی اور ڈیلوری بوائز کو دی جانے والی قیمتوں کو شمار کرلیا جائے تو اس میں مزید اضافہ ہوجائے گا ۔ عام طور پر ڈیلوری بوائز کو گیس ایجنسیوں کی جانب سے رقم ادا کی جانی چاہئے ۔ ڈیلوری بوائز کا کہنا ہے کہ ایجنسیوں کی جانب سے ہمیں کچھ نہیں دیا جارہا ہے ۔ جس کی وجہ سے صارفین سے وصول کیا جارہا ہے ۔ گھر کے بڑھتے ہوئے فلورس کے لحاظ سے ڈیلوریز بوائے چارجس بڑھا رہے ہیں ۔ پہلی منزل سے 20 روپئے کے ساتھ شروع کرتے ہوئے 50 روپئے تک وصول کیا جارہا ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے سلنڈرس پر دی جانے والی سبسیڈی تقریبا برخاست کردی گئی ہے ۔ صارفین کے کھاتے میں صرف 40 روپئے جمع ہورہے ہیں ۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں جملہ 32 لاکھ گیس کنکشنس ہیں ہر ماہ 20 لاکھ سلنڈرس گھروں تک سپلائی کیے جاتے ہیں ۔ اضافہ شدہ قیمتوں سے ہر ماہ شہریوں پر 10 کروڑ روپئے کا اضافی بوجھ عائد ہورہا ہے ۔ ن