پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف کانگریس کا احتجاج

   

مودی کا پتلا نذرآتش، ندیم جاوید، شیخ عبداللہ سہیل، ارشد شیخ اور دیگر کی شرکت

حیدرآباد ۔ 4 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پکوان گیس کی قیمتوں میں 50 روپئے اضافہ کے خلاف گاندھی بھون کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر پکوان کا اہتمام کیا گیا۔ صدر حیدرآباد کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ ارشد شیخ کی جانب سے احتجاجی دھرنا کا اہتمام کیا گیا اور وزیراعظم نریندر مودی کا علامتی پتلا بھی نذرآتش کیا گیا۔ اس احتجاجی دھرنے میں اے آئی سی انچارج سکریٹری تلنگانہ کانگریس امور ندیم جاوید صدرنشین تلنگانہ کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل او بی سی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین این سریکانت یوتھ کانگریس کے قائد انیل کمار یادو کے علاوہ دوسروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ یو پی اے کے دورحکومت 2014ء تک پکوان گیس کی قیمت 400 روپئے تھی۔ مودی کے 8 سالہ دورحکومت میں بڑھ کر 1200 روپئے تک پہنچ گئی ہے، جو غریب و متوسط طبقہ پر بہت زیادہ اضافی مالی بوجھ ہے۔ مرکزی حکومت کارپوریٹ اداروں کے بڑے پیمانے پر قرض معاف کررہی ہے۔ انہیں کروڑہا روپئے کی رعایتیں دے رہی ہیں اور غریب عوام پر ظلم کررہی ہیں۔ منموہن سنگھ کے دورحکومت میں پکوان گیس پر 2.14 لاکھ کروڑ روپئے کی سبسیڈی دیتے ہوئے غریب عوام کو راحت فراہم کی جاتی تھی۔ن
تاہم موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے اس سبسیڈی کو برخاست کرتے ہوئے عوام پر مالی بوجھ عائد کردیا ہے۔ صدر حیدرآباد کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ ارشد شیخ نے بتایا کہ ان 8 سال کے دوران خام تیل کی قیمت کبھی بھی 100 ڈالر سے زیادہ نہیں بڑھی ہے پھر بھی 400 روپئے میں دستیاب ہونے والے پکوان گیس سلنڈر کی قیمت کو 1200 روپئے کردیا گیا۔ 63 روپئے فی لیٹر دستیاب ہونے والے پٹرول کی قیمت 109 روپئے کردی۔ 50 روپئے سے کم قیمت پر دستیاب ہونے والے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت کو بڑھا کر 99 روپئے کردیا گیا ہے اس طرح مرکزی حکومت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو بھی کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ن