پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت ‘ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی پر زور

,

   

دہشت گردی کو کسی بھی مذہب ‘ قومیت یا نسلی گروپ سے جوڑنے کی مخالفت ‘ آپسی تعاون میں اضافہ پر زور‘ برکس ممالک کے دہلی مشترکہ اعلامیہ کی اجرائی

نئی دہلی 12 ستمبر ( ایجنسیز ) برکس ممالک نے اپریل 2025 میں ہوئے جموں و کشمیر کے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ برکس ممالک نے کہا کہ جن عناصر کو اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیا گیا ہے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے اور جو لوگ دہشت گردی کی مدد کر رہے ہیں ان کو جوابدہ بنایا جانا چاہئے ۔ پاکستان کی تائید سے اقوام متحدہ کے ذریعہ دہشت گرد قرار دئے گئے حافظ سعید کی تنظیم لشکرطیبہ اور اس کی ملحقہ تنظیم دی ریززٹنٹ فرنٹ نے 22 اپریل 2025 کو پہلگام دہشت گردانہ حملہ انجام دیا تھا جس میں 25 سیاح اور ایک مقامی آپریٹر کی موت واقع ہوگئی تھی ۔ این آئی اے کی جانبس ے اس دہشت گردانہ حملے میں پہلے ہی دو چارج شیٹس داخل کردی گئی ہیں جن میں ایک چارج شیٹ حافظ سعید کے خلاف ہے ۔ گدشتہ سال جولائی میں پہلگام حملہ انجام دینے والے تین پاکستانی دہشت گردوں کو انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا گیا تھا اور اب ہندوستان حافظ سعید کے خلاف غیاب میں مقدمہ چلانے کی تیاری کر رہا ہے ۔ 11 رکنی برکس تنظیم کے دہلی میں اجلاس کید وران جاری کئے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سخت الفاظ میں جموں و کشمیر میں ہوئے دہشتگردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اس میں 26 افراد ہلاک اور کئی دوسرے زخمی ہوگئے تھے ۔ برکس ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ہم دہشت گردی کی ہر شکل اور ہئیت میں مذمت کرتے ہیں اور سرحد پار سے دہشت گردوں کی نقل حرکت ‘ دہشت گردی کو فینانس اور محفوظ پناہ گاہیںفراہم کرنے کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ دہشت گردی کو کسی مذہب ‘ قومیت ‘ تہذیب یا نسلی گروپ سے نہیں جوڑا جانا چاہئے برکس اعلامیہ میں کہا گیا کہ جو کوئی دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہیں ان کی تائید کرتے ہیں انہیں جوابدہ بنایا جانا چاہئے اور متعلقہ قومی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق انصاف کیا جانا چاہئے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم دہشت گردی کو ناقابل برداشت قرار دینے اور دہشت گردی سے نمٹنے میں دوہرے معیارات کو بھی مسترد کرتے ہیں ۔ برکس قائدین نے مزید اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی سے نمٹا ممالک کی ذمہ داری ہے اور عالمی کوششیں بھی کی جانی چاہئے تاکہ دہشت گردانہ خطرات سے نمٹا جاسکے ۔ بین الاقوامی قوانین بشمول اقوام متحدہ چارٹر کے مطابق اس صورتحال سے نمٹا جانا چاہئے ۔ بیان میں کہا گیا کہ خاص طور پر بین الاقوامی حقوق انسانی قوانین اور بین الاقوامی پناہ گزین قوانین اور بین الاقوامی انسانی ہمدردی قوانین کا بھی بطور خاص خیال رکھا جانا چاہئے ۔ برکس کے رکن ممالک نے برکس انسداد دہشت گردی ورکنگ گروپ کی سرگرمیوں کی بھی ستائش کی اور کہا کہ اس کے پانچ ذیلی گروپس برکس کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ بیان میں تمام رکن ممالک نے دہشت گردی سے نمٹنے آپسی تعاون میں اضافہ کرنے اور جامع کنونشن کی تیاری اور منظوری کو بھی تیز رفتار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔