چار گھنٹے ٹریفک جام ، برقی کٹوتی ، برقی شاک سے دو نوجوانوں کی موت پر اظہار برہمی
حیدرآباد ۔ 11 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے ریاست کے دارالحکومت حیدرآباد میں پہلی ہی بارش کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال اور بد انتظامی پر کانگریس حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ سوشیل میڈیا لیٹ فارم ایکس پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کے ٹی آر نے سوال کیا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی یہ بھول چکے ہیں کہ وہ ریاست کے چیف منسٹر ہونے کے ساتھ ساتھ وزیر بلدی نظم و نسق بھی ہیں کیوں کہ یہ قلمدان چیف منسٹر نے اپنے پاس رکھا ہے ۔ کے ٹی آر نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کے عوام خاص طور پر سارا دن محنت مزدوری کر کے گھر لوٹنے والی خواتین اور لڑکیوں کو سڑکوں پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ موٹر سائیکل سواروں کی حالت زار پر حکومت کی اس قدر غیر ذمہ داری اور نا اہلی شرمناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیف منسٹر پوری انتظامی مشنری اور نظام کو قابو کرنے میں ناکام ہیں اور بارش ہونے پر غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ اس سے بڑی نا اہلی اور کیا ہوسکتی ہے ۔ کے ٹی آر نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے ہر سال مانسون کے آغاز سے قبل محکمہ بلدیات کی سرپرستی میں کئے جانے والے روایتی حفاظتی اقدامات کا سلسلہ یکسر ختم کردیا ہے ۔ مانسون سے نمٹنے کے لیے شہر کی صورتحال پر ایک بھی جائزہ اجلاس منعقد نہیں کیا گیا ۔ کچرے سے بھرے نالوں اور گندے پانی کی نکاسی کے نظام کی صفائی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف شہر اندھیرے میں ڈوبا رہا اور دوسری طرف برقی شاک لگنے سے پرانے شہر میں دو نوجوانوں کی موت واقع ہوگئی ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کے عوام ریونت ریڈی حکومت کو سبق سکھانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں ۔ جس کا واحد کام حیدرآباد کی قیمتی اراضیات پر قبضہ کرنا رہ گیا ہے ۔ کانگریس حکومت نے ریاست کے معاشی انجن حیدرآباد کو برباد کیا ہے ۔ انہیں آنے والے جی ایچ ایم سی انتخابات میں عوام کے ہاتھوں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑے گا ۔۔ 2/m/b