نئی دہلی، 14 اکتوبر (آئی اے این ایس) ہندوستانی کپتان شریاس ایر نے ویسٹ انڈیزکے خلاف 5 میچوں کی گھریلو سیریز کے شاندار آغازکے بعد آئی سی سی کی تازہ ترین ٹی 20 انٹرنیشنل بیٹرسکی عالمی درجہ بندی میں 3 درجے ترقی حاصل کرتے ہوئے کیریئرکے بہترین چوتھے مقام پر قبضہ کرلیا ہے۔ایر نے لکھنؤ میں سیریزکے افتتاحی میچ میں اپنی پہلی ٹی20 انٹرنیشنل سنچری اسکورکی، جس کے نتیجے میں ان کی درجہ بندی میں نمایاں بہتری آئی۔ ان کے چوتھے مقام پر پہنچنے کے ساتھ ہی ہندوستان کے 3 بیٹرس اب عالمی درجہ بندی میں ٹاپ 4 میں شامل ہوگئے ہیں۔ ایشان کشن پہلے مقام پر موجود ہیں، جبکہ ابھیشیک شرما دوسرے نمبر پر ہیں۔ پاکستانی کپتان صاحبزادہ فرحان تیسرے مقام پر موجود ہیں۔ سری لنکا کے خلاف شاندارکارکردگی کے بعد انہوں نے بھی کیریئر کے بہترین درجہ بندی کے نشانات حاصل کیے ہیں۔ ٹی20 انٹرنیشنل بیٹرسکی درجہ بندی میں ترقی حاصل کرنے والے دیگرکھلاڑیوں میں سری لنکا کے کوسل مینڈس شامل ہیں، جو 3 درجے ترقی کرکے 23ویں مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے شیرفین ردرفورڈ نے 13 درجے کی چھلانگ لگاتے ہوئے مشترکہ طور پر 24واں مقام حاصل کیا، جبکہ ہندوستان کے سنجو سیمسن 4 درجے بہتری کے ساتھ مشترکہ طور پر 27ویں مقام پر آگئے ہیں۔ پاکستان کے نوجوان کھلاڑی معاذ صداقت نے بھی نمایاں ترقی کی ہے۔ سری لنکا کے خلاف 3 میچوں کی سیریز میں اپنی کارکردگی کے بعد وہ ٹاپ 100 سے باہر سے ترقی کرتے ہوئے 45 ویں مقام پر پہنچ گئے ہیں۔بولروں کی درجہ بندی میں ویسٹ انڈیزکے روسٹن چیس نے ہندوستان کے خلاف کارکردگی کی بدولت 24 درجے ترقی کرتے ہوئے 23واں مقام حاصل کیا ہے۔ ٹی 20 انٹرنیشنل آل راؤنڈرزکی درجہ بندی میں بھی وہ 2 درجے ترقی کے بعد تیسرے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔پاکستان کے سلمان مرزا نے درجہ بندی میں9 درجے ترقی کرتے ہوئے 14واں مقام حاصل کیا، جبکہ ان کے ساتھی کھلاڑی صائم ایوب 8 درجے بہتری کے ساتھ 54ویں مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ دریں اثنا، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان کنگس میڈ، ڈربن میں کھیلے گئے 3 ٹسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے مقابلے میں آسٹریلیا کی 214 رنز سے کامیابی کے بعد ٹسٹ درجہ بندی میں بھی نمایاں تبدیلیاں ہوئی ہیں۔آسٹریلیا کے بیٹر میتھیو رینشا کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیے جانے کے بعد ٹسٹ بیٹرس کی درجہ بندی میں نمایاں ترقی ملی ہے۔ انہوں نے پہلی اننگز میں 190 اور دوسری اننگز میں 82 رنز بنائے تھے۔ اس کارکردگی کے نتیجے میں وہ ٹاپ 100 سے باہر سے ترقی کرتے ہوئے مشترکہ طور پر 49ویں مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ سابق عالمی نمبر ایک مارنس لبوشین نے بھی 4 درجے ترقی کرتے ہوئے 34واں مقام حاصل کیا۔