پیدائش کے وقت بچوں کی تبدیلی ، 38 سال بعد ہاسپٹل پر مقدمہ

   

واشنگٹن ۔ 20 جولائی (ایجنسیز) امریکی ریاست نارتھ ڈکوٹا کے ایک ہاسپٹل پر الزام ہے کہ اس نے 1988ء میں پیدا ہونے والے 2 نومولود بچوں کو غلطی سے تبدیل کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خاندانوں کے حوالے کر دیا تھا جس کا انکشاف 36 سال بعد ڈی این اے ٹسٹ سے ہوا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق 26 جنوری 1988ء کو دونوں بچے ایک ہی ہاسپٹل میں پیدا ہوئے تھے۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ہاسپٹل کے عملے نے بچوں کی شناخت میں غلطی کی اور انہیں ان کے حقیقی والدین کے بجائے ایک دوسرے کے گھر بھیج دیا۔ پیدائش کے وقت بدلے جانے والے دونوں بچوں میں سے ایک نے بتایا کہ مجھے ہمیشہ محسوس ہوتا تھا کہ میں اپنے خاندان سے مختلف دکھائی دیتا ہوں۔ شبے کی بنیاد پر کروائے گئے ڈی این اے ٹسٹ سے حقیقت سامنے آ گئی جس کے بعد دونوں افراد نے اپنے حیاتیاتی والدین سے آن لائن ملاقات کی تاہم دونوں اب تک ایک دوسرے سے آمنے سامنے نہیں ملے مل سکے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے ایک سال تک مالی تصفیہ کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ملنے پر ہاسپٹل کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ دوسری جانب ہاسپٹل نے واقعہ کے جذباتی اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے بھی اپنی قانونی ذمے داری سے انکار کیا ہے اور عدالت سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کی ہے۔