پی ایف آئی پر پابندی مسئلہ کا حل نہیں: اسد اویسی

   

تنظیم کے شدت پسند نظریات کی مخالفت، مرکز کے امتناع پر صدر مجلس کا ردعمل

حیدرآباد۔28 ۔ستمبر(سیاست نیوز) بیرسٹر اسد الدین اویسی رکن پارلیمنٹ حیدرآباد و صدر مجلس اتحاد المسلمین نے مرکزی حکومت کی جانب سے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر عائد کئے جانے والی پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس تنظیم کے شدت پسند نظریات کے ابتداء سے مخالف رہے ہیں اور کبھی ان کی تائید نہیں کی لیکن تنظیم پر پابندی عائد کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ انہو ںنے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر عائد کی گئی پابندی پر اپنی پارٹی کا ردعمل پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ یا ان کی جماعت اس پابندی کے خلاف ہیں کیونکہ کسی فرد واحد یا شخص کی جانب سے کی جانے والی حرکت کی سزاء پوری تنظیم کو نہیں دی جاسکتی۔بیرسٹر اسدالدین اویسی نے استفسار کیا کہ مرکزی حکومت ان شدت پسندو ںکے خلا ف کب پابندی عائد کرے گی اور کیا کاروائی کرے گی جو درگاہ اجمیر شریف کے بم دھماکہ میں ملوث ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ درگاہ اجمیر شریف میں بم دھاکہ کرنے والوں کا تعلق کس سے تھا یہ سب جانتے ہیں اور ان مجرمین کو عدالت نے بم دھماکوں کے معاملہ میں سزاء سنائی ہے لیکن اس کے باوجود ان کی تنظیم پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے کہا مرکزی حکومت نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے یو اے پی اے کے تحت جن افراد کو گرفتار کیا ہے انہیں کئی برسوں تک ضمانت حاصل نہیں ہوسکتی اسی لئے وہ UAPA قانون کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے ایک سیاہ قانون قرار دیتے ہیں۔ بیرسٹر اویسی نے کہا کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی عائد کرنے کے بعد اب حکومت نے مسلم نوجوانوں کو ہراسان کرنے کا لائسنس دے دیا ہے اب پولیس کی جانب سے پی ایف آئی کے ایک پمفلٹ کو برآمد کرتے ہوئے کسی کوبھی گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ وہ ان دائیں بازو شدت پسندتنظیموں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں جو ملک میں نوجوانوں میں نفرت پیدا کرتے ہوئے ان کے ذہنوں کو پراگندہ کر رہی ہیں۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ جو تنظیمیں نوجوانوں کو تشدد پر اکسا رہی ہیں ان تنظیموں اور ان کی محاذی تنظیموں کے خلاف کاروائی کی جانی چاہئے کیونکہ نفرت پھیلانے والوں کی سازشوں کا شکار ہونے والے نوجوان ملک کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر تشدد کے مرتکب ہو رہے ہیں۔بیرسٹر اویسی نے جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے شہباز انصاری کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کئے جانے (لنچنگ ) کی مذمت کرتے ہوئے اسے نفرت کا نتیجہ قرار دیا ۔م