ڈپازیٹرس آر بی آئی کے مقرر کردہ منتظم سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ بمبئی ہائیکورٹ میں حلفنامہ داخل
ممبئی 19 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بحران کا شکار پنجاب و مہاراشٹرا کو آپریٹیو بینک کے ڈپازیٹرس ریزرو بینک کے تقرر کردہ منتظم سے ایک لاکھ روپئے تک کی رقمی دستبرداری کیلئے رجوع ہوسکتے ہیں۔ تاہم یہ رقمی دستبرداری طبی ایمرجنسی سے متعلق ہی ہے ۔ ریزرو بینک نے بمبئی ہائیکورٹ سے آج یہ بات کہی ۔ عدالت میں ایک حلفنامہ داخل کرتے ہوئے ریزرو بیک نے کہا کہ شادیوں ‘ تعلیم ‘ گذر بسر اور دوسری مشکلات کیلئے پہلے ہی پچاس ہزار روپئے تک کی دستبرداری کی حد مقرر کی گئی ہے ۔ عدالت میں رقمی دستبرداری کی حد کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن کی سماعت کے دوران آر بی آئی نے یہ حلفنامہ داخل کیا ہے ۔ ریزرو بینک کے وکیل وینکٹیش دھونڈ نے جسٹس ایس سی دھرمادھیکاری اور جسٹس آر آئی چاگلہ کی ایک ڈویژن بنچ سے کہا کہ جن ڈپازیٹرس کو مشکلات کا سامنا ہے وہ لوگ ریزرو بینک کے مقرر کردہ منتظم سے رابطہ کرتے ہوئے ایک لاکھ روپئے تک دستبرداری کرسکتے ہیں۔ حلفنامہ میں کہا گیا ہے کہ بینک کے مفادات کا تحفظ کرنے اس طرح کی تحدیدات ضروری تھیں۔ اس کے علاوہ اس طرح کے اقدام کے ذریعہ ڈپازیٹرس کے مفادات کا بھی تحفظ کیا جا رہا ہے ۔ بینک نے مزْد کہا کہ پی ایم سی بینک میں کئی غلط کاریوں کی اطلاعات تھیں جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے ۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے 23 ستمبر کو پی ایم سی بینک پر چھ ماہ کیلئے تحدیدات عائد کی گئی تھیں کیونکہ یہاں بے قاعدگیاں ہو رہی تھیں۔ حلفنامہ میں کہا گیا ہے کہ ڈپازیٹرس کی مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مخصوص حالات پر مشتمل درخواستوں کا جائزہ لینے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ مقررہ حد سے زیادہ رقومات سے دستبرداری کا موقع دیا جاسکے ۔ جن ڈپازیٹرس کو طبی ایمرجنسی کی صورتحال درپیش ہے وہ ایک لاکھ روپئے تک کی دستبرداری کیلئے ریزرو بینک کے منتظم سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ شادیوں ‘ تعلیم ’ روز مرہ کی گذر بسر اور دوسری ضروریات کیلئے رقمی دستبرداری کی حد پہلے ہی 50 ہزار روپئے مقرر کی گئی ہے ۔ بنچ نے اس حلفنامہ کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ سماعت 4 ڈسمبر کو مقرر کی ہے ۔