ممنور ایئرپورٹ کو آنجہانی سابق وزیر اعظم سے موسوم کرنے تلنگانہ حکومت کا منصوبہ
حیدرآباد۔21۔ستمبر۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ پی وی نرسمہا راؤ کے نام کو دوبارہ زندہ کرنے کی تیاری میں مصروف ہے! ممنور ائیر پورٹ کے نام کی تجاویز کے سلسلہ میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی اپیل کے بعد مختلف گوشوں سے ممنور ائیرپورٹ کو کاکتیہ ائیر پورٹ‘ رانی ردرمادیوی ائیر پورٹ کے علاوہ دیگر ناموں کی تجاویز پیش کی جانے لگی ہیں لیکن ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاستی حکومت کانگریس کے کسی قائد کے نام سے ممنور ائیر پورٹ کو موسوم کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے ۔ بتایا جاتاہے کہ شہر حیدرآباد میں موجود ائیر پورٹ جو کہ ’راجیو گاندھی انٹرنیشنل ائیر پورٹ ‘ سے موسوم ہے اور اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیر پورٹ نئی دہلی ائیرپورٹ کا نام ہے اس کے علاوہ مختلف قائدین کے نام سے ملک بھر میں مختلف ائیر پورٹس کو موسم کیاگیا ہے لیکن نرسمہا راؤ کے نام سے کوئی ائیر پورٹ موسوم نہیں ہے اسی لئے حکومت نے شہر حیدرآباد میں ’پی وی این آر ‘ ایکسپریس وے کے بعد اب ورنگل میں ’پی وی این آر‘ ائیر پورٹ کے قیام کی منصوبہ بندی شروع کی ہے اور کہاجارہا ہے کہ حکومت نے مختلف وجوہات کی بناء پر ممنور ائیر پورٹ کو ’نرسمہا راؤ‘کے نام سے موسوم کرنے کی حکمت عملی تیار کررہی ہے۔بتایاجاتاہے کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ہندستان کے پہلے وزیر اعظم ہونے کے سبب ان کے نام سے تلنگانہ کے دوسرے ائیرپورٹ کو موسوم کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے جبکہ اس کے منفی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو ’نرسمہا راؤ ‘ کے نام سے ایکسپریس وے کو موسوم کئے جانے کی بھی شدت سے مخالفت کی گئی تھی کیونکہ بابری مسجد کی شہادت نرسمہا راؤ کے دور وزارت عظمیٰ کے دوران ہوئی تھی اور کئی برسوں تک ملک بھر کے مسلمانوں میں کانگریس کے متعلق نفرت کی لہر پائی جاتی رہی بلکہ نرسمہاراؤ کے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد کانگریس 10 تک اقتدار میں واپس نہیں آئی ۔ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے ’نرسمہاراؤ‘ کے نام سے ائیر پورٹ کو موسوم کرنے کی حکمت عملی بالواسطہ طور پر فرقہ پرست تنظیموں اور اس کے کارکنوں خوش کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہاہے حالانکہ نرسمہاراؤ کی دہلی میں موت کے بعد ان کی نعش کو کانگریس کے صدر دفتر میں رکھنے کی روایت پر بھی عمل نہیں کیاگیا تھا۔3