نیویارک: ناسا کے سربراہ بل نیلسن نے انتباہ جاری کیا۔ انہوں نے کہا ہیکہ امریکہ اور چین خلائی دوڑ میں شامل ہیں اور ملک کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہیکہ اس کا حریف چاند پر قدم جمانے کی کوشش نہ کرے۔دنیا کے تمام ممالک کے درمیان چاند کی سطح پر انسانی زندگی کی تلاش کی دوڑ جاری ہے۔ تاہم امریکہ اور چین اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو چین امریکہ سے آگے نکلتا ہوا نظر آتا ہے جو کہ ناسا کو پریشان کر رہا ہے۔ ناسا کو ڈر ہیکہ چین چاند پر قبضہ کر لے اور وہاں موجود وسائل پر اپنا دعویٰ داغ کر دوسرے ممالک کی لینڈنگ روک دے۔ناسا کے سربراہ بل نیلسن نے اس حوالے سے وارننگ جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا ہیکہ امریکہ اور چین خلائی دوڑ میں شامل ہیں اور ملک کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہیکہ اس کا حریف چاند پر قدم جمانے کی کوشش نہ کرے۔ نیلسن نے کہا کہ چین بالآخر چاند کے وسائل سے مالا مال علاقوں کی ملکیت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ ناسا کے سربراہ نیلسن نے کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان مقابلہ تیز ہو رہا ہے اور اگلے دو سال اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ کون سا ملک بالا دستی حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ ہم خلائی دوڑ میں ہیں اور یہ سچ ہے کہ ہمیں بہتر طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے کہ چین سائنسی تحقیق کی آڑ میں چاند پر قبضہ نہ کر لے۔
اور اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ چین کہے کہ یہ ہمارا علاقہ ہے، یہاں سے دور رہو۔