جنوبی ہند میں نیشکر کے کاشتکاروں کو مناسب امدادی قیمت کے لیے یادداشت
حیدرآباد۔/20 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) لوک سبھا میں بی آر ایس لیڈر ناما ناگیشور راؤ کی قیادت میں تلنگانہ، کرناٹک، ٹاملناڈو اور اوڈیشہ سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر سے ملاقات کی اور نیشکر کے کاشتکاروں کو امدادی قیمت کی ادائیگی اور دیگر امور پر نمائندگی کی۔ جنوبی ہند کی ریاستوں میں نیشکر کے کاشتکار مختلف مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر سے مطالبہ کیاکہ کاشتکاروں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ ناما ناگیشور راؤ کے ہمراہ ملاقات کرنے والے ارکان پارلیمنٹ میں سوما لتا امبریش، ایل ہنومنتیا، شانتا کماری، اے گنیش مورتی، پی سندرم کے علاوہ نیشکر کے کاشتکاروں کے قائدین این وینکٹیشورراؤ اور دوسرے شامل تھے۔ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کو یادداشت پیش کرتے ہوئے کاشتکاروں کے مسائل سے واقف کرایا گیا۔ مرکزی حکومت سے درخواست کی گئی کہ کاشتکاروں کو ایف آر پی کی طئے شدہ شرحیں ادا کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ہند کے کاشتکار ریکوری ریٹ میں 10.2 فیصد اضافہ کے نتیجہ میں نقصان کا سامنا کررہے ہیں اسے گھٹا کر 8.5 فیصد کیا جائے۔ نیشکر کی امدادی قیمت کو 305 روپئے سے بڑھا کر 350 روپئے کرنے کی سفارش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں نے فصلوں کیلئے بھاری قرض حاصل کیا ہے اگر انہیں مناسب امدادی قیمت ادا نہیں کی گئی تو وہ مالی مشکلات سے دوچار ہوجائیں گے۔ حالیہ طوفانی بارش کے نتیجہ میں فصلوں کو بھاری نقصان ہوا ہے لہذا فصل بیمہ اسکیم پر عمل آوری ضروری ہے۔ ناما ناگیشورراؤ نے بتایا کہ تلنگانہ میں زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے اور رعیتو بیمہ اور رعیتو بندھو جیسی اسکیمات کے ذریعہ مالی مدد سے کسانوں کو بھاری فائدہ ہوا ہے۔ اوڈیشہ، کرناٹک اور ٹاملناڈو کے ارکان پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر فرٹیلائزر بھگونت کمار سے بھی ملاقات کی اور یادداشت پیش کی۔ ر