بنگلورو: کرناٹک کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی کی سی ای او کو گوا میں اپنے چار سالہ بیٹے کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے آج کہا کہ ملزمہ سوچنا سیٹھ گوا میں اپنے بیٹے کا قتل کرنے کے بعد اس کی نعش لیکر کرناٹک گئی تھی۔ فی الحال قتل کے اسباب کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ گوا پولیس نے بتایا کہ 6 جنوری کو سوچنا اپنے بیٹے کے ساتھ شمالی گوا میں کینڈولم پہنچی اور اس نے یہاں ایک سرویس اپارٹمنٹ کرائے پر لیا۔ دو دن تک رہنے کے بعد سوچنا نے سرویس اپارٹمنٹ کے عملہ سے بنگلورو کیلئے ٹیکسی بک کرنے کو کہا۔ عملہ نے اسے ہوائی جہاز سے جانے کا مشورہ دیا، لیکن سوچنا نے اس کیلئے ٹیکسی کیلئے اصرار کیا۔
بعد میں جب اپارٹمنٹ کا عملہ اس کمرے کی صفائی کرنے گیا جہاں سوچنا اور اس کا بیٹا رہتے تھے تو اسے تولیے پر خون کے دھبے ملے ۔ اس نے فوراً کلانگوٹ پولیس کو اس کی اطلاع دی۔عملے نے پولیس کو بتایا کہ اسے اس خاتون کا بیٹا ٹیکسی میں سوار نہیں ملا اور وہ اپنے ساتھ ایک بھاری بیگ لے گئی ہے ۔ اس کے بعد پولیس نے سوچنا کو بلایا اور خون کے دھبے اور اس کے لاپتہ بیٹے کے بارے میں دریافت کیا۔ ملزمہ نے پولیس کو بتایا کہ خون کے دھبے اس کی ماہواری کی وجہ سے تھے اور اس کا بیٹا مرگاؤں میں تھا اور اس نے اس کا پتہ بتایا ۔ کلانگوٹ پولیس نے جب فاتوردہ پولیس سے رابطہ قائم کیا تو معلوم ہوا کہ اس کا دیا ہوا پتہ جعلی ہے ۔کلانگوٹ پولیس نے ٹیکسی ڈرائیور سے بات کی، جو سوچنا کے ساتھ چتردرگ جا رہا تھا اور اس سے کہا کہ وہ گاڑی کو قریبی پولیس اسٹیشن لے جائے ۔ چتردرگ میں جب پولیس نے سوچنا کے بیگ کی جانچ کی تو اس میں اس کے چار سالہ بیٹے کی لاش ملی۔ کلانگوٹ پولیس کی ایک ٹیم نے چتردرگ جاکر سوچنا کا ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کیا ہے ۔لاش کا پوسٹ مارٹم چتردرگ میں کیا جائے گا اور پولیس نے سوچنا کے شوہر وینکٹ رمن کو اس واقعہ کے بارے میں مطلع کر دیا ہے ، جو اس وقت جکارتہ میں ہے ۔