چار پارٹیوں کے قومی موقف کے متعلق جائزہ

,

   

ایک پارٹی کو قومی پارٹی برقرار رکھنے کے لئے اس کا ایک ہی نشانہ ملک کی تمام ریاستوں میں ہوتا ہے او ران کے لئے دہلی میں پارٹی دفتر قائم کرنے کے لئے جگہ دی جائے گی اور الیکشن کے دوران عوامی نشریاتی اداروں پر مفت ائیرٹائم کی فراہمی رہتی ہے

نئی دہلی۔سترویں لوک سبھا کے لئے منعقد ہوئے انتخابات پارٹی کے سیاسی مظاہروں کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کے موقف کا جائزہ لینے کا عمل مذکورہ الیکشن کمیشن اگلے ماہ سے

شروع کرے گی آیا کیا وہ علاقائی پارٹی رہ جائیں گے یا پھر ان کاقومی موقف برقرار رکھا جائے گا۔ اس تبدیلی سے واقف ایک عہدیدارنے کے

مطابق انتخابی عملہ دوسلسلہ وار انتخابات میں علاقائی اورقومی سطح پر ان پارٹیوں کے مظاہرہ کا اندازہ لگارہا ہے۔

سابق میں انتخابی عملے نے ایک الیکشن کی بنیاد پر اہلیت کا اندازہ لگایاتھا ’مگر 2016میں قوانین میں تبدیلی لائی گئی اور اس کو دو الیکشن تک وسعت دی گئی ہے(جو ایک عام الیکشن اور ایک ریاستی الیکشن یا پھر

دو ریاستوں میں ایک الیکشن ہوسکتا ہے‘ ایک کے بعد اس میں قومی یا علاقائی پارٹی کا موقف فراہم کیاجاتاتھا۔سال2019کے لوک سبھا الیکشن میں خراب مظاہرہ کے بعد

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(سی پی ائی) نیشنلسٹ کانگریس پارٹی(این سی پی)‘ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور ال انڈیاترنمول کانگریس(اے ائی ڈی سی)کو اگر قومی جماعتوں کے موقف میں رہنا ہے تو انہیں اگلے الیکشن میں اپنا مظاہرہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے

۔مثال کے طور پر این سی پی جس کے لئے بہت جلد اسی سال مہارشٹرا میں ریاستی الیکشن متوقع ہے۔

اسی طرح کی بات بی ایس پی کے ساتھ بھی ہے‘ اگر اس نے فیصلہ کیاہے کہ وہ ویسٹرن اسٹیٹ میں مقابلہ کرے گی‘ علاوہ ازیں اس پارٹی کی لائف لائن 2022کے اترپردیش کے ریاستی الیکشن تک ہے۔

او رسی پی ائی او راے ائی ٹی سی کے لئے بھی یہی حال کیونکہ مغربی بنگال میں الیکشن 2021میں ہونے والا ہے۔