نئی دہلی: ہندوستانی خلائی ایجنسی (اسرو) کے ذریعہ چاند پر بھیجے گئے چندریان 3 کے لینڈر اور روور ماڈیول کو ایک بار پھر فعال کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ تاہم، اس بات کی امید کم ہے کہ لینڈر اور روور دوبارہ کام کر سکیں گے۔ دراصل لینڈر اور روور سلیپ موڈ پر چلے گئے ہیں۔ اگر یہ سلیپ موڈ سے بیدار ہو کر دوبارہ کام کرنے لگتا ہے تو یہ اسرو کیلئے خوشی کی بات ہوگی۔ چہارشنبہ کا دن چاند پر بہت ٹھنڈا دن رہا ہے۔ اس لیے اب یہ کہا جا رہا ہے کہ لینڈر اور روور دن کے طلوع ہونے اور سورج کی روشنی کے پھیلنے کے بعد بیدار ہو جائیں گے۔لینڈر اور پرگیان روور ماڈیول کو سلیپ موڈ سے اٹھانے کی کوشش کی جائے گی۔میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرو کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ زمینی اسٹیشن زیادہ سے زیادہ سورج کی روشنی دستیاب ہونے کے بعد جمعرات یا جمعہ کو لینڈر، روور ماڈیول اور آن بورڈ آلات کو بحال کرنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم ان کے دوبارہ کام کرنے کے امکانات بہت زیادہ نہیں ہیں۔ لیکن یہ بھی کوئی مایوس کن صورتحال نہیں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ لینڈر یا روور ماڈیول سلیپ موڈ سے بیدار ہو جائے۔ لیکن مکمل فعالیت حاصل کرنے سے قاصر رہیں۔ میڈیا کے مطابق شمسی توانائی سے چلنے والے چندریان 3 ماڈیول مشن کی زندگی صرف ایک قمری دن تھی جو زمین پر تقریباً 14 دنوں کے برابر تھی۔ لینڈر اور روور ماڈیولز میں موجود الیکٹرانکس کو چاند پر رات کے انتہائی سرد درجہ حرارت کو برداشت کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا۔ جہاں چندریان 3 اترا ہے، وہاں درجہ حرارت ۔200 ڈگری سیلسیس سے کافی نیچے چلا گیا ہے۔ اگر دونوں نیند کے موڈ سے جاگتے ہیں، تو لینڈر اور روور کم از کم اگلے 14 زمینی دنوں تک کام جاری رکھ سکتے ہیں۔چاند پر جانے کے بعد وکرم لینڈر اور پرگیان روور نے زمین پر سائنسدانوں کو کئی اہم ڈیٹا بھیجے ہیں۔ اس ڈیٹا کی بنیاد پر چاند سے متعلق کئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ اسرو نے بتایا تھا کہ پرگیان روور نے 100 میٹر کا فاصلہ طے کیا ہے۔ روور کو یہ فاصلہ طے کرنے میں تقریباً 10 دن لگے۔ اسرو نے سوشل میڈیا سائٹ X پر لینڈر اور روور کے درمیان فاصلے کا گراف بھی شیئر کیا تھا۔ 6 پہیوں والے روور کا وزن 26 کلوگرام ہے۔