چندرا بابو نائیڈو نے ان کے پروگرامس میں رکاوٹیں پیدا کرنے پر برہمی کا اظہار کیا

   


پولیس سے استفسار کیا کہ وہ سرکاری ملازم ہے یا دہشت گرد؟
ہر ایک کے نام یاد رکھنے کا انتباہ دیا
حیدرآباد ۔ 7 جنوری (سیاست نیوز) تلگودیشم پارٹی کے قومی سربراہ و سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے انہیں اپنے اسمبلی حلقہ کپم کا دورہ کرنے کے دوران پولیس کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ کیا تم پولیس ہو یا دہشت گرد تمہیں ملازمت کس نے دی ہے۔ مجھے روکنے کیلئے 2 ہزار پولیس ملازمین کیوں آئے ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ عوام کے تحفظ کیلئے پولیس اتنی چستی پھرتی کا مظاہرہ کرتی تو کندکور اور گنٹور میں عوام کی قیمتی زندگیاں ضائع نہیں ہوتی۔ سابق چیف منسٹر نے انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر ہراساں کرنے کا پولیس پر الزام عائد کیا اور پولیس کو انتباہ دیا کہ وہ فوری اپنا رویہ تبدیل کرلیں بصورت دیگر وہ ایسے پولیس ملازمین کے نام یاد رکھنے کیلئے مجبور ہوجائیں گے۔ کپم کے دورہ کے دوران پولیس نے چندرابابو نائیڈو کے تشہیری رتھ کی اجازت نہیں دی اور مائیک سسٹم کو بھی بند کردیا جس پر چندرا بابو نائیڈو برہم ہوگئے اور گاڑی پر چڑھ کر ہینڈ مائیک سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس تلگودیشم کارکنوں پر حملے کررہی ہے اور ان کے خلاف اقدام قتل کے مقدمات بھی درج کررہی ہے۔
کندکور واقعہ پر تلگودیشم کے انچارج گنٹور واقعہ پر این آر آئی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ نائیڈو نے کہا کہ ان کی 43 سالہ سیاسی زندگی میں ان کے ساتھ کسی نے ایسا سلوک نہیں کیا جو اب کیا جارہا ہے۔ 14 سال تک انہوں نے حکمرانی کی ہے، قومی سیاست میں اہم رول ادا کرچکے ہیں۔ پولیس کی بے رحمانہ کارروائی کے پیچھے ’’سائیکو‘‘ چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کا ہاتھ ہے۔ن