حکومت نے ایک ماہ کی مہلت دی، یونیورسٹی نے جی او 107 پر عمل کرنے کی ہدایت دی
حیدرآباد ۔ 12 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں پی جی طبی تعلیم کے داخلوں میں چند خانگی کالجس کی جانب سے اختیار کردہ رویہ سے طلبہ مشکلات سے دوچار ہورہے ہیں۔ سال 2022-23ء کے طبی تعلیم میں پی جی نشستیں حاصل کرنے والے امیدواروں کو داخلہ کے موقع پر آئندہ سال کی فیس کے ساتھ بنک گیارنٹی دینے کا دباؤ بنایا جارہا ہے۔ جاریہ سال 22 اگست کو حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او نمبر 107 کے مطابق کالجس میں داخلوں کے بعد اندرون ایک ماہ تک بنک گیارنٹی دینے کی سہولت فراہم کی گئی ہے جس کو میڈیکل کالجس کی جانب سے خاطر میں نہیں لایا جارہا ہے۔ پوسٹ گریجویشن کی سالانہ فیس تقریباً 24 تا 26 لاکھ روپئے ہے۔ فیس میں اضافہ کرنے کی درخواست عدالت میں زیرسماعت ہے۔ عدالت نے قطعی فیصلہ ہونے تک 60 فیصد فیس یعنی 14 تا 15 لاکھ روپئے کی فیس طلبہ سے وصول کرنے کی کالجس کو ہدایت دی ہے مگر چند کالجس کی جانب سے مکمل فیس کے علاوہ آئندہ سال کی فیس کی بنک گیارنٹی دینے کا طلبہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں بصورت دیگر داخلہ نہ دینے کی ضد کررہے ہیں۔ والدین کی التجا کو کالج انتظامیہ کی جانب سے ٹھکرا دیا جارہا ہے۔ داخلوں کی مہلت قریب ختم ہونے کی وجہ سے طلبہ نے اس کی کالوجی نارائن ہیلت یونیورسٹی سے شکایت کی ہے جس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ہیلت یونیورسٹی نے تمام خانگی میڈیکل کالجس کو مکتوب روانہ کیا ہے اور حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ داخلوں کے بعد بنک گیارنٹی ایک ماہ میں دینے کی حکومت کی جانب سے سہولت فراہم کی ہے۔ طلبہ پر دباؤ بنائے بغیر انہیں فوری کالجس میں داخلہ دینے کی ہدایت دی ہے جس پر کالجس کی جانب سے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ داخلوں کے بعد بنک گیارنٹی نہ دینے پر نقصان کالجس کا ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ن