514 مکانات اور 11 سرکاری دفاتر کو سولار برقی کی سربراہی، ریاستی وزراء نے معائنہ کیا
حیدرآباد ۔ 29 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی کا آبائی گاؤں کنڈا ریڈی پلی جنوبی ہند میں سولار انرجی سے برقی حاصل کرنے والا پہلا گاؤں بن چکا ہے ۔ یہ ملک کا دوسرا گاؤں ہے جہاں مکمل طور پر برقی سربراہی سولار انرجی کے ذریعہ عمل میں آرہی ہے ۔ ناگر کرنول ضلع کے ونگور منڈل کے تحت کونڈا ریڈی پلی حکومت نے 10.53 کروڑ کے مصارف سے سولار انرجی پراجکٹ کی تکمیل کرکے جنوبی ہند کے پہلے سولار انرجی ولیج کے طور پر مثالی بنادیا ہے ۔ حکومت کے قابل تجدید برقی سے متعلق کارپوریشن ریڈکو کی جانب سے پراجکٹ پر عمل آوری کی گئی جس کے تحت 514 مکانات اور 11 سرکاری دفاتر کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ دیہات کے 480 مکانات مکمل طور پر سولار برقی سسٹم سے لیس ہیں اور تین کیلو واٹ برقی کی تیاری کی صلاحیت موجود ہے۔ سولار برقی تیاری پراجکٹ کی مکمل گنجائش 1500 کیلو واٹ بتائی گئی ہے۔ پراجکٹ کے قیام کا مقصد 34 ایسے خاندانوں کو سولار اینرجی سربراہ کرنا ہے جو مٹی سے بنے مکانات میں گزارا کر رہے ہیں ۔ ان خاندانوں کو اندراماں ہاؤزنگ کے تحت مکانات کی تعمیر کا انتظار ہے۔ سولار انرجی پراجکٹ کے ذریعہ ہر گھر کو ماہانہ 360 یونٹ برقی سربراہی کی جاسکتی ہے ۔ اضافی برقی پاور گرڈ اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو منتقل کی جائے گی۔ ایک یونٹ کی تیاری پر 5.25 روپئے کا خرچ آئے گا۔ ریڈکو کے عہدیداروں نے کہا کہ ستمبر میں سولار انرجی پراجکٹ مکمل ہوچکا ہے۔ پراجکٹ کے تحت 7.96 کروڑ آلات کی خریدی پر خرچ کئے گئے جبکہ مرکزی حکومت نے 3.56 کروڑ کی سبسیڈی فراہم کی ہے۔ اسی دوران ریاستی وزراء دامودر راج نرسمہا ، جوپلی کرشنا راؤ اور وی سری ہری نے صدرنشین و مینجنگ ڈائرکٹر سدرن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی مشرف فاروقی آئی اے ایس کے ہمراہ پراجکٹ کا معائنہ کیا اور تفصیلات حاصل کی۔1