چیف منسٹر ریونت ریڈی کی نامپلی خصوصی عدالت میں حاضری

   

انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مقدمات کا سامنا، 12 جون کو فیصلہ کا امکان
حیدرآباد ۔ 22۔ مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مختلف معاملات میں آج نامپلی کورٹ میں پیش ہوئے۔ چیف منسٹر نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات بے بنیاد ہیں اور انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ریاست کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں ریونت ریڈی کے خلاف مقدمات درج کئے گئے تھے، جن میں میدک ، نلگنڈہ ، بیگم بازار پولیس اسٹیشن شامل ہیں۔ مقدمات کی سماعت کے سلسلہ میں ریونت ریڈی آج دوسری مرتبہ عدالت میں حاضر ہوئے اور اپنا بیان درج کرایا۔ صدر پردیش کانگریس کی حیثیت سے انہوں نے پارٹی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا ۔ نامپلی کی خصوصی عدالت میں چیف منسٹر کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد 12 جون کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر کی حیثیت سے ریونت ریڈی دوسری مرتبہ نامپلی کورٹ میں پیش ہوئے۔ چیف منسٹر کے خلاف چار پولیس اسٹیشنوں میں مقدمات درج ہیں اور تحقیقات کے آخری مرحلہ میں ریونت ریڈی نے شخصی طور پر حاضری کے ذریعہ اپنا بیان ریکارڈ کرایا ۔ چیف منسٹر کی آمد کے موقع پر عدالت کے باہر اور کورٹ ہال کے قریب سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ کورٹ ہال میں غیر متعلقہ افراد کو داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی ۔ بی آر ایس حکومت نے ریونت ریڈی کے خلاف مقدمات درج کئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے مقدمات میں عائد کردہ الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ۔ چیف منسٹر کے وکلاء اور قریبی لیگل ٹیم کو کورٹ ہال میں داخلہ کی اجازت دی گئی اور دیگر مقدمات سے متعلق افراد کو بعد میں جانے کی اجازت دی گئی۔1