بی آر ایس کا دورِ حکمرانی سنہرا دور ، سابق وزیر پرشانت ریڈی کا پریس کانفرنس سے خطاب
نظام آباد۔ 7 جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بالکنڈہ رکن اسمبلی اور سابق وزیر مسٹر پرشانت ریڈی نے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے قرض معافی کے معاملہ میں عوام اور مندروں کے سامنے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اب حکومت مختلف مندروں کو فنڈس جاری کرکے اپنے وعدہ خلافی کی جارہی ہے۔مسٹر پرشانت ریڈی نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں دس سالہ دور حکومت میں تقریباً چار لاکھ کروڑ روپے کے قرض حاصل کیے گئے، جن کے ذریعہ کالیشورم آبپاشی پراجکٹ، چیک ڈیمس، رعیتو بندھو اسکیم، مشن بھاگیرتھا کے تحت گھر گھر پینے کے پانی کی فراہمی، 24 گھنٹے مفت برقی، وظائف میں اضافہ، کلیانہ لکشمی شادی مبارک اسکیم، بھیڑوں اور مچھلیوں کی تقسیم، اقلیتوں اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کے علاوہ ایک ہزار سے زائد اقامتی اسکولوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی آر ایس حکومت نے قرض لے کر ریاستی اثاثوں اور ترقیاتی ڈھانچے کو مضبوط بنایا۔انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت نے صرف ڈھائی برس کے مختصر عرصہ میں چار لاکھ کروڑ روپے سے زائد قرض حاصل کیا ہے، لیکن عوام کو یہ نہیں بتایا جا رہا کہ اس خطیر رقم سے کون سی ترقیاتی سرگرمیاں انجام دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران خواتین کو سونا، ماہانہ مالی امداد، دو لاکھ روپے تک قرض معافی، رعیتو بھروسہ اور وظائف میں اضافہ جیسے وعدے کیے گئے تھے، مگر اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس ان وعدوں کو مکمل طور پر پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔بی آر ایس قائد نے الزام عائد کیا کہ مرکز اور ریاست میں برسرِ اقتدار جماعتیں بی آر ایس کے حامی ووٹروں کو ووٹر فہرستوں سے خارج کرنے کی سازش کر سکتی ہیں۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور بوتھ سطح کے ایجنٹس کو ہدایت دی کہ وہ ووٹروں کے اندراج، نئے ووٹوں کے اضافے اور فرضی ووٹوں کی روک تھام کے معاملے میں پوری طرح چوکس رہیں۔پرشانت ریڈی نے مزید دعویٰ کیا کہ تلنگانہ کے مفادات اور ریاستی تشخص کو خطرات لاحق ہیں اور بعض سیاسی طاقتیں ریاست کو دوبارہ اپنے اثر و رسوخ میں لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں کے۔ چندر شیکھر راؤ ہی تلنگانہ کے مفادات کے حقیقی محافظ ہیں اور ریاستی عوام کی امنگوں کی تکمیل کے لیے بی آر ایس کو مزید مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے پارٹی کی جاری رکنیت سازی مہم کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ دیہات، وارڈس اور بستیوں کی سطح پر بڑے پیمانے پر رکنیت سازی مہم چلائیں۔ اس اجلاس میں ضلع رکنیت سازی انچارج وی جی گوڑ، سابق ارکان اسمبلی باجی ریڈی گووردھن، جیون ریڈی، ہنمنت شندے، جے سریندر، راجہ رام یادو اور دیگر پارٹی قائدین، عوامی نمائندوں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔