احتجاجی ڈاکٹروںسے ملنے چیف منسٹر بنگال اچانک ہڑتالی مقام پر پہنچ گئیں
کولکاتا: کولکاتا کے آر جی کر ہاسپٹل میں ٹرینی ڈاکٹر کے ساتھ ریپ اور اس کے بعد قتل کے واقعہ کے بعد جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑال جاری ہے۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی ہفتہ کو اچانک ہڑتالی ڈاکٹرس سے ملاقات کیلئے پہنچیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ میں آپ لوگوں کی فکر کرتی ہوں، مجھے اپنے عہدے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اس کیس میں مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی اور انہیں آزاد نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے مظاہرین سے درخواست کی کہ وہ اپنے کام پر واپس لوٹ آئیں۔ ان کے اور احتجاجی ڈاکٹروں کے درمیان بات چیت نہ ہونے کے دو دن بعد چیف منسٹر ممتا بنرجی جونیئر ڈاکٹروں کے دھرنے کے مقام پر پہنچ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مظاہرین ان پر بھروسہ کرسکتے ہیں تو وہ ان کے مطالبات پر غور کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن انہیں وقت کی ضرورت ہے کیونکہ تحقیقات کیلئے وقت چاہئے۔ ڈاکٹرس سے اپیل کرنے کی یہ ان کی آخری کوشش ہوسکتی ہے۔چیف منسٹر نے کہا کہ بی جے پی زیراقتدار ریاست اترپردیش میں ایسے احتجاج کو توڑنے لازمی خدمات قانون (ایسما) لاگو کیا گیا لیکن میں آپ لوگوں کے خلاف ایسی کوئی کارروائی نہیں کروں گی۔ سواستھ بھون‘ سالٹ لیک کے باہر احتجاجی ڈاکٹروں سے خطاب میں ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی راتوں کی نیند اْڑگئی ہے کیونکہ ڈاکٹرس بارش میں سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تم سے تمہاری دیدی کی حیثیت سے ملنے آئی ہوں‘ چیف منسٹر کی حیثیت سے نہیں۔ چیف منسٹر کے جانے کے بعد احتجاجی ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ اپنے مطالبات پر بات چیت ہونے تک کسی بھی سمجھوتہ کیلئے تیار نہیں۔ جونیر ڈاکٹرس منگل سے سواستھ بھون کے باہر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں جو کولکتہ میں ریاستی محکمہ صحت کا ہیڈکوارٹرس ہے۔ ان کے مطالبات میں سرکاری دواخانوں میں بہتر سیکوریٹی کی فراہمی اور آر جی کار میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کے اعلیٰ عہدیداروں کو ہٹادینا شامل ہے۔ ممتا بنرجی دوپہر 1 بجے کے آس پاس سیکٹر 5 میں مقام ِ احتجاج پر پہنچیں۔ ان کے ساتھ ڈائرکٹرجنرل پولیس راجیو کمار موجود تھے۔ ان کی اچانک آمد سے سبھی حیران رہ گئے۔ گزشتہ 34 دن سے میری رات کی نیند اڑگئی ہے کیونکہ آپ لوگ سڑکوں پر بیٹھے ہیں۔ مجھے آپ کی نگرانی کے لئے جاگتے رہنا ہے۔ مغربی بنگال میں زائداز ایک ماہ سے جونیر ڈاکٹرس ہڑتال پر ہیں۔ ریاست میں علاج معالجہ کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ علاج نہ ملنے کے باعث 29 جانیں جاچکی ہیں۔