بیجنگ: امریکہ، جاپان، جرمنی، فرانس اور ہالینڈ نے چین کی طرف سے چپ (سیمی کنڈکٹرز) اور الیکٹرک گاڑیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی دو دھاتوں کی برآمدات پر پابندی لگانے کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔اخبار ‘ڈان’ میں بتایا گیا ہے کہ منگل کو کئی ممالک کی کمپنیوں نے چین کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ چین کے یکم اگست سے کچھ گیلیم اور جرمینیم مصنوعات کی برآمدات پر پابندی لگانے کے اچانک اعلان نے امریکہ کے ساتھ اس کی تجارتی جنگ میں اضافہ کردیا ہے ۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس سے عالمی سپلائی میں مزید خلل پڑ سکتا ہے ۔چینی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے تحت یہ قدم اٹھایا گیا ہے ۔ ماہرین اسے چین کی تکنیکی ترقی کو روکنے کے لیے بڑھتی ہوئی امریکی کوششوں کے ردعمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی یوم آزادی کے موقع پر اور امریکی وزیر خزانہ جینٹ ییلن کے بیجنگ کے دورے سے عین قبل چین کا یہ فیصلہ سامنے آیا ہے ۔چین کی گلوبل مائننگ ایسوسی ایشن کے صدر پیٹر آرکل نے کہا کہ “چین نے امریکی کاروبار کو نقصان پہنچانے کے لیے پابندیوں کے تحت اس پر حملہ کیا ہے ۔” یوروپی کمیشن نے چین کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ جرمنی کے وزیر خزانہ رابرٹ ہیبیک نے کہا کہ لیتھیم جیسے مواد پر پابندی لگانے سے مسئلہ مزید بڑھ جائے گا۔مسٹر آرکیل نے کہا کہ “گیلیم اور جرمینیم کچھ ایسی چھوٹی دھاتیں ہیں جو تکنیکی مصنوعات کی ایک رینج کے لیے بہت اہم ہیں اور چین ان میں سے زیادہ تر دھاتوں کا بڑا پروڈیوسر ہے ۔” انہوں نے کہا کہ یہ خیالی تصور ہے کہ کوئی دوسرا ملک مختصر مدت میں چین کی جگہ لے سکتا ہے ۔کسٹم کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے نیوز ویب سائٹ Caixin نے رپورٹ کیا ہے کہ سال 2022 میں چین کی گیلیم مصنوعات کے سب سے زیادہ درآمد کنندگان جاپان، جرمنی اور ہالینڈ تھے ، جب کہ جرمینیم مصنوعات کے سب سے زیادہ درآمد کنندگان جاپان، فرانس، جرمنی اور امریکہ تھے ۔وزارت تجارت جمعرات کو دھاتوں کے بڑے پروڈیوسروں کے ساتھ ایک میٹنگ کرے گی تاکہ برآمد پابندیوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے ۔