بیجنگ: کمیونسٹ پارٹی کانگریس نے چینی سیاست میں اعلٰی سطح پر صنفی عدم مساوات کو واضح کر دیا ہے۔ کم از کم ایک چوتھائی صدی میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ 24 افراد پر مشتمل ایگزیکٹیو کمیٹی میں کوئی بھی خاتون نہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جب چین کے صدر شی جن پنگ اور ان کے اتحادیوں کی توجہ اقتدار سے جڑے امور پر مرکوز تھی تو پارٹی میں اعلیٰ سطح پر فائز خاتون ریٹائرڈ ہو گئیں۔ممتاز سیاست دان سن چون لان جو نائب وزیراعظم تھیں اور صحت کی پالیسیوں کی نگراں تھیں، ہفتہ کو چین کی مرکزی کمیٹی کی فہرست میں ان کا نام موجود نہیں تھا جس کا مطلب ہے کہ وہ مستعفی ہو گئی ہیں۔دنیا کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی جس کے نو کروڑ 60 لاکھ فعال ارکان ہیں، اس میں خواتین کا کردار کچھ زیادہ فعال نہیں ہے۔پارٹی کی نئی 205 رکنی مرکزی کمیٹی کا صرف پانچ فیصد خواتین پر مشتمل ہے جبکہ چین کی سب سے طاقتور سات رکنی پولیٹبرو سٹینڈنگ کمیٹی میں کوئی خاتون نہیں اور یہ کمیٹی شی جن پنگ کی سربراہی میں صرف مردوں پر مشتمل ہے۔72 برس کی سن چون لان ایگزیکٹیو کمیٹی میں واحد خاتون تھیں۔