ممبئی: مہاراشٹر کے تعلیم کے لیے مشہور شہر پونے میں ڈاکٹر پی اے انعامدار یونیورسٹی کے قیام پر منعقدہ ایک تہنیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹی کا مقصد ایک عام آدمی تک تعلیم پہنچانا ہے ۔اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں اس مقصد میں ضرور کامیابی حاصل ہوگی کیونکہ پی اے انعامدار اور ان کے معاونین نے اعظم کیمپس کو گزشتہ تین دہائیوں میں مینار نور بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ اس موقع پراسلم چشتی فرینڈ سرکل کے روح رواں اسلم چشتی نے کہاکہ پونے میں پی اے انعامدار کے نام اور تعلیمی میدان میں ان کام اورملت کو بہتر تعلیم دلوانے کے لیے ان کی سرگرمیوں سے ہر ایک اچھی طرح سے واقف ہے اور جب کسی ادارے کو یونیورسٹی کا درجہ مل جائے تو جشن تواس ادارے کے سربراہ کا حق بن جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ پونے اپنے تعلیمی و علمی کاموں کے لیے جانا جاتا ہے اور وہ خود ہمیشہ ہی ان کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اس موقع پر منعقد تقریب کے بعدوہ ایک شام بہت ہی خوبصورت تھی جب اعظم کیمپس کے وسیع و عریض ہال میں وہ نظارہ دیکھا جو تاریخ بن گیا ۔ ابتدائی پروگرام ڈاکٹر مہتاب عالم کی خوبصورت نظامت سے شروع ہُوا جس میں نعتِ پاک کے بعد ڈاکٹر پی اے انعامدار صاحب اور ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب اور اقبال خان صاحب کے علمی و ادبی کاموں کی ستائش کی گئی اور ان کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا – اس کے بعد مُشاعرے کا دور شروع ہوا جس میں مہمانِ خصوصی ڈاکٹر پی اے انعامدار تھے جو کسی ناگزیر وجہ کے سبب شریک نہیں ہو سکے لیکن ان کا پیغام اور ان کی دعائیں پروگرام میں ساتھ تھیں مشاعرے کے خاص مہمان ڈاکٹر عبدالقدیر شاہین ایجوکیشن گروپ کے بانی و سربراہ تھے۔ مشاعرے کی صدارت شاعر اور ماہر لسانیات فاروق جائسی صاحب نے کی اور نظامت کے فرائض معروف صحافی اور مشہور شاعرہ ’’صدا ٹوڈے‘‘کی چیف ایڈیٹر ڈاکٹر وسیم راشد صاحبہ نے ادا کی۔
مُشاعرے کی رونق دوبالا کرتے ہوئے جن اشعار نے بے پناہ داد وصول کی وہ آپ کے ذوق کی نذر ہیں – شولاپور سے وی سی شیخ بھی تشریف فرما تھے ۔جوکہ تعلیمی میدان میں سرگرم ہیں۔
مُشاعرہ رات دو بجے تک اپنی رونقیں بکھیرتا رہا بے پناہ کامیابی کے ساتھ مُشاعرہ ختم ہُوا – اسلم چشتی فرینڈ سرکل کے اراکین آخری وقت تک موجود رہے اور خود اس ادارے کے بانی اسلم چشتی جو دامے درمے سخن قدمے علمی و ادبی کاموں میں شریک رہتے ہیں موجود رہے – اسلم چشتی صاحب کے شکریہ کے ساتھ مُشاعرے کا اختتام ہُوا –