l ریاست میں تین لاکھ مکانات کی تعمیر جاری ۔ مسلمانوں کو 30 ہزار مکانات الاٹ کئے جائیں
l 12 فیصد تحفظات میں مرکز سے رکاوٹ کا بہانہ ۔ ریاستی اسکیم پر عمل آوری کیوں نہیں ؟
l تاحال مسلمانوں کو صرف 1000 مکانات کا الاٹمنٹ ۔ عوام میں حکومت سے شدید ناراضگی
حیدرآباد 29 ۔ نومبر: ( سیاست نیوز ) :مسلمانوں کی سماجی ، اقتصادی و تعلیمی پسماندگی کا جائزہ لینے چیف منسٹر کے سی آر نے سدھیر کمیشن تشکیل دیا تھا ۔ سدھیر کمیشن نے تفصیلی جائزہ لینے کے بعد 6 سال قبل 12 اگست 2016 کو جامع رپورٹ حکومت کو پیش کی اور مختلف سفارشات بھی پیش کی ۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ریاست میں 43 فیصد مسلمانوں کی آبادی کرائے کے مکانات میں رہتی ہے ۔ اس کے باوجود ریاست میں مکانات کی تقسیم میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک کیا جارہا ہے جس کا مسلمانوں میں شدید احساس پایا جاتا ہے ۔ اس پر سنجیدگی سے غور کا حکومت کو مشورہ دیا گیا تھا جس پر حکومت نے ڈبل بیڈ روم مکانات کی تقسیم میں مسلمانوں کو 10 فیصد کوٹہ مقرر کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ لیکن اس وعدے سے بھی انحراف کیا گیا ۔ ایک ہفتہ قبل وزیر ہاوزنگ وی پرشانت ریڈی اور چیف سکریٹری سومیش کمار نے ضلع کلکٹرس کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کا اہتمام کرکے ریاست بھر میں ڈبل بیڈ روم مکانات کے تعمیرات کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا جس میں بتایا گیا کہ حکومت نے ریاست میں 2,91,057 لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات کی منظوری دی ہے ۔ جس میں 1,29,528 لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر ہوگئے ۔ مزید 58,350 ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر آخری مراحل میں ہے ۔ ماباقی 40,651 ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیرات مختلف مراحل میں ہیں ۔ ڈبل بیڈ روم مکانات کیلئے 19,328,32 کروڑ روپئے خرچ کا تخمینہ تیار کیا گیا ۔ آئندہ سال 15 جنوری تک ڈبل بیڈ روم مکانات کی تقسیم کیلئے اہل و مستحق افراد کا شفاف طریقہ سے انتخاب کرنے ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی گئی ہے ۔ بعض اضلاع و اسمبلی حلقوں میں ڈبل بیڈ روم مکانات غریب عوام میں تقسیم بھی کردئیے گئے ۔ مگر وعدے کے مطابق 10 فیصد کوٹہ پر عمل نہیں کیا گیا جس سے غریب مسلمانوں کا بھاری نقصان بھی ہوا ہے ۔ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے تقریبا 3 لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر کئے جارہے ہیں جس میں 10 فیصد کوٹہ کے لحاظ سے مسلمانوں کو تقریبا 30 ہزار مکانات ملنا چاہئے ۔ تاہم 8 سال میں جن اضلاع و اسمبلی حلقوں میں مکانات تقسیم کئے گئے ہیں وہاں 1000 مسلمانوں کو بھی ڈبل بیڈروم مکانات کا مالک نہیں بنایا گیا ہے ۔ حکومت کو اس پر جواب دینا چاہئے ۔ مسلمانوں سے ڈبل بیڈ روم مکانات کی تقسیم میں جو ناانصافی ہوئی ہے اس کا ازالہ کرنے خصوصی حکومت عملی تیار کی جائے ۔ کلکٹرس کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں بتایا گیا کہ 1,29,528 مکانات تعمیر ہوگئے ہیں ۔ ان میں 10 فیصد کوٹہ کے ساتھ مسلمانوں کو تقریبا 11 ہزار مکانات کا مالک بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ اس کے علاوہ ماباقی مکانات کی تعمیر میں بھی 10 فیصد کوٹہ پر سختی سے عمل کی ضرورت ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ 33 اضلاع کے کلکٹرس اور 119 اسمبلی حلقوں کے ارکان اسمبلی کو خصوصی رہنما خطوط جاری کرکے مسلمانوں سے 10 فیصد کوٹہ کے وعدہ پر سختی سے عمل کی ہدایت دے ۔ ابھی تک اضلاع و مختلف اسمبلی حلقوں میں جو ڈبل بیڈ روم مکانات تقسیم کئے گئے یا جن اہل افراد کا انتخاب کیا گیا ان میں مسلمانوں کی مجموعی طور پر 2 فیصد تعداد بھی نہ ہونے کی اطلاعات ہیں جس سے مسلمانوں میں مایوسی ہے ۔ چیف منسٹر نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ۔ مگر مرکزی بی جے پی حکومت سے گرین سگنل نہ ملنے کا بہانہ کرکے ٹال مٹول کی پالیسی اپنائی جارہی ہے ۔ جبکہ وعدے کے مطابق ایس ٹی طبقات کو تعلیم اور ملازمتوں میں 10 فیصد تحفظات فراہم کردئے گئے ۔ اس پر عمل ہورہا ہے ۔ اگر اتفاق بھی کرلیا جائے کہ مرکزی حکومت 12 فیصد مسلم تحفظات کے خلاف ہے ۔ لیکن ڈبل بیڈ روم مکانات تلنگانہ حکومت کی اسکیم ہے ۔ اس میں حکومت نے مسلمانوں کو 10 فیصد کوٹہ دینے کا وعدہ کیا ۔ اس پر عمل میں مرکزی حکومت کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ پھر کے سی آر حکومت اپنے وعدے پر عمل میں کیوں ناکام ہے ۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی ترقی و بہبود کے معاملے میں عہد کا پابند ہونے کا اعلان کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اس پر عمل کی ضرورت ہے ۔ مسلمانوں سے نا انصافیوں کا ریاست میں سلسلہ جاری ہے ۔ سماج کے تمام طبقات سے انصاف کرنا اور وعدوں کو نبھانا حکومت کی ذمہ داری ہے جب انصاف کا توازن بگڑ جاتا ہے تو مخالفت شروع ہوتی ہے ۔ ن