نائٹ اسکول کے طلبہ میں لاک ڈاؤن کے بعد نمایاں کمی، ’معصوم ‘ اور سوشل گروپس کی جدوجہد
ممبئی: ممبئی میں نائٹ اسکولوں اور ڈراپ آوٹ کے مسائل سے نمٹنے کیلئے ایک معروف غیرسرکاری این جی او “معصوم “اور سوشل گروپس کی جانب سے جدوجہد جاری ہے ، تاکہ لڑکپن میں گھریلو پسماندگی اور مالی حالات کی وجہ سے تعلیم سے محروم نوجوانوں کو دوبارہ اسکول کی طرف لایا جائے ۔واضح رہے کہ اس تعلق سے ایک جلسہ میں مختلف نائٹ اسکولوں اور این جی او جے نمائندوں نے رات کے اسکولوں کے مسائل اور اُن کے حل کے لیے بہت سی تجاویز پر غور کیا اور یہ اعادہ کیا کہ تعلیم سے محروم بچوں کو دوبارہ اسکول لانے اور ان اسکول کی بقاء کے لیے اہم اور جامع منصوبہ بندی کی جائے گی۔اس موقع پر این جی او کی سی ای او نیکیتا کیتکر نے خطاب کرتے ہوئے مستقبل کا لائحہ عمل پیش کیا اور یقین دلایا کہ مستقبل قریب میں نائٹ اسکول کے سسٹم کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ساتھ ساتھ تعلیمی طریقہ کار کوبھی نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ نائٹ اسکولوں میں ایسے بچے زیرتعلیم ہیں، جوکہ دن میں محنت مزدوری یا ملازمت کرتے یا پھیری کرتے ہیں اور شام میں چھٹی کے بعد اسکول آتے ہیں ،ان میں غریب خاندان کے کڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں ،جومالی دشواریوں کی وجہ سے اسکول نہیں جاتے ہی۔ اور تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔اس موقع پر انٹاپ ہل وڈالا کی حاجی اسماعیل حاجی الانامیونسپل اسکول میں واقع ک سوشل گروپس اردو نائٹ اردو ہائی اسکول کے سکریٹری سلیم الورے اور نومنتخب صدراور صحافی جاویدجمال الدین نے بھی این جی او کے نمائندوں سے خطاب کیا۔مذکورہ اسکول بچوں نے امسال پھر مثالی کامیابی حاصل کی ہے اور اسکول کا ایس ایس سی کا نتیجہ صدفیصد رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس کامیابی سے علاقے کے تعلیمی میدان میں سرگرم ہم جیسے سماجی کارکنان کا حوصلہ بڑھاہے اور گزشتہ دو سال کے دوران کوویڈ 19 ،اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیگر اسکول کی طرح نائٹ اسکول کے بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی تھی۔ہم اسے بہتر سے بہتر کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔اس موقع پر سلیم الوارے نے کہاکہ چندسال پہلے اسکول کے متعدد طلبہ نائٹ ہائی اسکول کی کیٹگری میں ریاست بھر ممبئی بورڈ میں اول آئے ہیں ۔1993 میں اسکول کی شروعات ہوئی،تقریبا 550 بچے تھے ۔سکریٹری امیر پے جے نے کہاکہ فسادات سے متاثرہ بچے خصوصی طور پرطالبات کی تعداد زیادہ تھی،کیونکہ فساد سے متاثر لوگ اپنی بچیوں کو دور مقامات پر واقع اسکول نہیں بھیجتے تھے ۔
اور یہ سلسلہ حال کے پانچ سال پہلے تک رہا۔لیکن بی ایم سی کی طرف سے سکینڈری اسکول کھولے جانے سے اسکول کے طلباء کی تعداد میں کمی واقع ہوئی اور لاک ڈاؤن نے رہی سہی کسر پوری کردی۔انہوں نے اس موقع پر ڈراپ آوٹ کے سنگین مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے کہاکہ تقریبا دس سال پہلے پولیس کی مدد سے ڈراپ آوٹ بچوں کو دوبارہ اسکول میں لانے کی مہم شروع کی گئی اور اس میں خاصی کامیابی ملی تھی ،اس لیے ہمیں اس طرف توجہ دینا چاہئیے ۔