ڈسپلن شکنی پر کانگریس قائدین کو تادیبی کارروائی کا ہائی کمان کا انتباہ

   


ڈگ وجئے سنگھ کے دو روزہ مشن کی تکمیل، تلنگانہ میں کامیابی کیلئے قائدین میں اتحاد کا مشورہ
حیدرآباد ۔23 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس کے بحران کی یکسوئی کیلئے اے آئی سی سی نمائندہ کے طورپر سینئر قائد ڈگ وجئے سنگھ نے دو دن تک قائدین سے ملاقات کے بعد آج نئی دہلی واپس ہوگئے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے پارٹی قائدین کو سخت پیام دیا کہ وہ آپسی اختلافات پر بیان بازی سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ ڈسپلن شکنی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور کانگریس ہائی کمان نے واضح کردیا ہے کہ ڈسپلن شکنی کی صورت میں چاہے کتنا ہی بڑا قائد کیوں نہ ہو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ نئی دہلی واپسی سے قبل ڈگ وجئے سنگھ نے گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دن میں انہوں نے تمام قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی ۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی مسائل یا شکایات ہوں ، اسے پارٹی فورم میں پیش کرنا چاہئے یا پھر ہائی کمان سے رجوع کریں۔ میڈیا میں الزامات اور جوابی الزامات کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی قائدین نے اپنی شکایات پیش کی ہیں اور ان تمام شکایات اور مسائل کا حل تلاش کیا جائے گا۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس اور بی جے پی کے خلاف ماحول ہے۔ کانگریس پارٹی کو متحد ہوکر دونوں پارٹیوں کے خلاف مہم چلانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کیلئے قائدین میں اتحاد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کرنے والے قائدین کو انہوں نے ڈسپلن شکنی کے بارے میں ہائی کمان کے موقف سے آگاہ کردیا ہے ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے تلنگانہ میں خاندانی حکمرانی اور کرپشن کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے بی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ اتحاد کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس میں پارلیمنٹ میں مودی حکومت کے ہر فیصلہ کی تائید کی ہے۔ بی آر ایس پارلیمنٹ میں بی جے پی کی تائید کرتی ہے جبکہ باہر دونوں میں نورا کشتی جاری ہے۔ ان حقائق کو عوام کے روبرو پیش کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا 30 جنوری تک سری نگر پہنچ جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل میں کانگریس کا اہم رول ہے۔ ٹی آر ایس صرف دو ارکان کے ساتھ تلنگانہ تشکیل نہیں دے سکتی تھی۔ انہوں نے بی جے پی اور بی آر ایس پر کانگریس قائدین کی خریدی اور ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کی یاترا کو روکنے کی سازش کی جارہی ہے۔ پریس کانفرنس میں سینئر قائدین وی ہنمنت راؤ ، سریدھر بابو ، محمد علی شبیر ، انجن کمار یادو ، مہیش کمار گوڑ ، ڈاکٹر ملو روی اور پونم پربھاکر موجود تھے۔ر