ڈینگو ہائی رسک کے تحت 2071 علاقوں کی نشاندہی، جولائی میں 800 کیسوں کا اندراج
حیدرآباد ۔ 3 اگست (سیاست نیوز) ریاست میں ڈینگو کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے انتباہ کے بعد محکمہ صحت پوری طرح الرٹ ہوگیا ہے جس کے بعد تلنگانہ میں ڈینگو کے 2071 ہائی رسک علاقوں کی نشاندہی کی گئی ۔ ان علاقوں کی جملہ آبادی 65.62 لاکھ ہے۔ گذشتہ برسوں میں رپورٹ ڈینگو کیسوں کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے جس کے بعد محکمہ طب و صحت کو چوکس کرتے ہوئے 33 ریاپڈ ریسپانس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ 42 ڈینگو ٹسٹ مراکز ہاسپٹلس، تلنگانہ ڈائگناسٹک سنٹرس کی نشاندہی کرکے ان میں سہولتیں فراہم کی گئیں۔ ریاست بھر میں 53 بلڈ بینکس کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں 26 بلڈ بینکس میں پلیٹلیٹ یونٹس ہیں۔ محکمہ صحت کے سکریٹری کرسٹینازاد نے تمام کلکٹرس کو ہدایت دی ہیکہ وہ تمام اضلاع میں صفائی اور پانی جمع ہونے والے علاقوں میں مچھروں کی افزائش کو روکنے خصوصی اجلاس منعقد کریں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے تمام اضلاع کے اڈیشنل کلکٹرس، میونسپل کمشنرس اور ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسرس کے ساتھ ڈینگو و موسمی بیماریوں کی صورتحال پر ویڈیو کانفرنس کا اہتمام کیا۔ ہر جمعہ کو ڈرائی ڈے منانے پر زور دیتے ہوئے آشا ورکرس اور اے این ایمز کو گھر گھر روانہ کرکے مچھروں کی افزائش کو روکنے عوام میں شعور بیدار کرنے کی مہم زور دیا۔ محکمہ صحت نے انکشاف کیا کہ دیگر اضلاع کی نسبت حیدرآباد، رنگاریڈی، میڑچل، کھمم، نظام آباد، سنگاریڈی اور ورنگل میں لاروا کی افزائش زیادہ ہے۔ موسم کی تبدیلی اور بارش کے باعث مچھروں کی کثرت سے ڈینگو متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ اس سال جون تک ریاست میں 1078 کیس درج ہوئے۔ تشویش کی بات ہیکہ صرف جولائی میں 800 کیس آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی کے ذخائر میں اضافہ اور صفائی کی کمی کے باعث اگست اور ستمبر میں ڈینگو متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ قبائلی علاقوں میں صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے۔2