نئے رولس کے خلاف 64 عہدیدار عدالت سے رجوع، سرویس رولس اور دستور کی خلاف ورزی کی شکایت
حیدرآباد۔ 12 جولائی (سیاست نیوز ) تلنگانہ پولیس کے 64 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (DSP) رینک کے عہدیداروں نے پولیس کے نئے سینیاریٹی رولز کو تلنگانہ ہائی کورٹ میں چیالنج کیا۔ ہائی کورٹ نے درخواستوں کی سماعت کے بعد ڈائرکٹر جنرل پولیس سی وی آنند کو نئے سینیاریٹی رولز کا جائزہ لینے اور نظرثانی کی ہدایت دی۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت 28 جولائی کو ہوگی۔ درخواست گذاروں نے حکومت کی جانب سے متعارف کردہ سینیاریٹی فارمولہ کو چیالنج کیا۔ درخواست گذاروں کا کہنا تھا کہ ان کی سینیاریٹی کا تعین حکومت کے جی او 123 کے بجائے 1996 کے تلنگانہ اسٹیٹ اینڈ سب آرڈیننٹ سرویس رول کے قاعدہ 33 کے تحت ہونا چاہئے ۔ حکومت کے احکامات کے مطابق 19 فروری 2024 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق گروپ I امتحانات میں حاصل نشانات اور ٹریننگ میں حاصل ہونے والے نشانات کی بنیاد پر سینیاریٹی کا تعین کیا جائے گا۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے نئے احکامات موجودہ سرویس رولس کے برخلاف ہیں۔ عہدیداروں نے دو علیحدہ درخواستوں کے ذریعہ حکومت کے احکامات کو چیالنج کیا۔ پہلی درخواست ایم سریکانت اور دیگر 32 پروبیشنری ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جبکہ دوسری درخواست ارون کمار اور 31 دوسروں نے داخل کی۔ دونوں درخواستوں میں جی او نمبر 123 کو عدالت کے قطعی احکامات تک معطل کرنے کی درخواست کی گئی۔ درخواست گذاروں نے کہا کہ نئے سینیاریٹی رولس دستور ہند کے قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین نے درخواستوں کی سماعت کی۔ راست طور پر منتخب ڈی ایس پیز کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹس ایل سری رام اور اویناش دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کے احکامات دستور کی دفعہ 14 اور 16 کے خلاف ہیں جس کے تحت قانون کی نظر میں تمام کو یکساں موقف دیا گیا ہے اور عوامی روزگار میں ہر ایک کے لئے مساوی سہولتیں ہیں۔ وکلاء نے کہا کہ نئے سینیاریٹی رولس کی اجرائی کا اطلاق ان عہدیداروں پر نہیں ہوسکتا جنہیں احکامات سے قبل تقرر کیا گیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے سینیاریٹی کے مسئلہ پر تلنگانہ حکومت سے وضاحت طلب کی۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ راست طور پر تقرر کردہ ڈی ایس پی رتبہ کے عہدیداروں کی سینیاریٹی کا معاملہ جنرل ایڈمنسٹریٹیو ڈپارٹمنٹ سے رجوع کیا گیا ہے۔ حکومت سے احکامات حاصل کرتے ہوئے جواب داخل کرنے عدالت سے سرکاری وکیل نے مہلت طلب کی۔ 1؍F