اسمبلی اجلاس کے بعد دہلی روانگی کا امکان، 6 وزارتوں کیلئے 15 سے زائد قائدین کی دعویداری
حیدرآباد۔/13 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ریونت ریڈی کی زیر قیادت 11 رکنی ریاستی کابینہ کی تشکیل کو ایک ہفتہ مکمل ہوا لیکن کابینہ میں توسیع کیلئے چیف منسٹر پر نو منتخب ارکان اور سینئر قائدین کی جانب سے دباؤ میں اضافہ ہوچکا ہے۔ ریونت ریڈی اور 11 ریاستی وزراء نے 7 ڈسمبر کو حلف لیا تھا جبکہ کابینہ میں مزید 6 وزراء کی شمولیت کی گنجائش ہے۔ 119 رکنی تلنگانہ اسمبلی کی تعداد کے اعتبار سے کابینہ 18 ارکان پر مشتمل ہونی چاہیئے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کانگریس قائد راہول گاندھی کے بیرونی دورہ کے پروگرام کے سبب کابینہ میں توسیع کو ملتوی کیا جارہا تھا لیکن راہول گاندھی نے بیرونی دورہ منسوخ کردیا اور وہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شریک ہیں۔ راہول گاندھی کی ملک میں موجودگی کے سبب وزارت کے دعویداروں نے ریونت ریڈی پر دباؤ میں اضافہ کردیا ہے جس کے نتیجہ میں وہ اسمبلی اجلاس کے بعد دورہ دہلی کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ 15 سے زائد سینئر قائدین وزارت میں شمولیت کی دعویداری پیش کرچکے ہیں۔ دو اور تین میعادوں کے ارکان اسمبلی نے سینیاریٹی کی بنیاد پر کابینہ میں شمولیت کا دعویٰ کیا ہے۔ نومنتخب ارکان میں جی ونود، جی ویویک، سدرشن ریڈی، پریم ساگر راؤ، رام موہن ریڈی اور مل ریڈی رنگاریڈی نے وزارت کیلئے ہائی کمان کے پاس نمائندگی تیز کردی ہے۔ دیگر قائدین میں بعض ایسے ہیں جنہیں اسمبلی چناؤ میں شکست ہوئی لیکن سینیاریٹی کی بنیاد پر وزارت کا مطالبہ کررہے ہیں ان میں ٹی جیون ریڈی، ٹی جگا ریڈی، مدھو یاشکی گوڑ اور انجن کمار یادو شامل ہیں۔ کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے والے ایک بھی مسلم امیدوار کو کامیابی نہیں ملی جس کے نتیجہ میں ریونت ریڈی کیلئے کابینہ میں مسلم نمائندگی کا فیصلہ کرنا آسان نہیں ہے۔ مسلم کوٹہ کے تحت کئی قائدین نے اپنی دعویداری پیش کی ہے تاہم ریونت ریڈی ہائی کمان پر فیصلہ چھوڑ چکے ہیں۔ اسمبلی چناؤ میں مسلمانوں نے کانگریس کی تائید کی لیکن پہلی کابینہ مسلم نمائندگی کے بغیر تشکیل دی گئی حالانکہ ہائی کمان نے مسلمان کو ڈپٹی چیف منسٹر مقرر کرنے کا من بنالیا تھا۔ جو بھی مسلم امیدوار کامیاب ہوتا اسے پہلی کابینہ میں جگہ ملتی۔ کابینہ میں شمولیت کیلئے مسلم دعویداروں میں محمد علی شبیر اور محمد اظہر الدین کے نام سرفہرست بتائے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بعض دیگر قائدین دہلی کی سطح پر اپنی پیروی شروع کرچکے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میں کانگریس پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئے انجن کمار یادو اور رنگاریڈی نے اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ریونت ریڈی باقی 6 وزراء کی شمولیت کا مرحلہ مکمل کرتے ہوئے حکومت کی کارکردگی پر توجہ مبذول کرنا چاہتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہائی کمان مختلف طبقات کو نمائندگی کے وعدے کے تحت کن چھ خوش نصیبوں کے ناموں کو منظوری دے گا۔