لکھنو ۔ 13 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اکھل بھارت ہندو مہا سبھا نے ان تمام کار سیوکوں کے خلاف فوجداری مقدمات سے دستبرداری کا مطالبہ کیا ہے جو مبینہ طور پر 6 ڈسمبر 1992 ء کو بابری مسجد ڈھانے میں ملوث ہوئے۔ مہا سبھا نے یہ استدلال پیش کیا کہ سپریم کورٹ نے بھی اپنی رولنگ میں کہا ہے کہ مسجد کی جگہ پر مندر موجود تھی ۔ وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب میں مہا سبھا کے سربراہ سوامی چکراپانی نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ 1992 ء میں ہلاک ہونے والے تمام رام بھکتوں کو شہید کہا جائے۔